دستور مخالف شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کبھی قابل قبول نہیں، ہم آخری سانس تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے رہنما مولانا م حمد رضوان اور محمد فرقان کی میڈیا سے گفتگو! بنگلور، : دستور مخالف شہریت ترمیمی قانون، این آ...

مرکز تحفظ اسلام ہند کے رہنما مولانا م

حمد رضوان اور محمد فرقان کی میڈیا سے گفتگو!

بنگلور، : دستور مخالف شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں ہورہے احتجاجی مظاہروں کے درمیان مرکز تحفظ اسلام ہند کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔اس موقع پر مرکز کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی نے فرمایا کہ یہ لڑائی کسی ایک خاص مذہب یا طبقہ کی نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی تمام ہندوستانیوں کی ہے۔یہ لڑائی ملک کی آئین، دستور اور جمہوریت کو بچانے کی لڑائی ہے۔انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں تمام مذاہب والوں کو یکساں حقوق دے گئے ہیں، آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ایسا سیاہ قانون بنایا گیا ہے جس کی بنیاد مذہب پر ہے۔جو ملک کے باعزت شہریوں کی شہرت چھین سکتی ہے۔مولانا رضوان نے دوٹوک فرمایا کہ جب تک یہ سیاہ قانون واپس نہیں لیا جائیگا تب تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے اور اپنے گھروں سے نکلتے رہیں گے۔مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ حکومت ایک نئے منصوبوں کے تحت ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ابھی جو شہریت ترمیمی قانون نافذ ہوا ہے وہ ملک کے دستور کے دفعہ 14، 15 اور 21 کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور جمہوریت کو پاش پاش کرتی ہے۔ملک کی آزادی کے بعد یہ پہلا قانون ہے جو مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔جو اس ملک کے باعزت شہریوں کو کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں۔مرکز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ بارہا کہتے آرہے ہیں کہ پورے ملک میں این آر سی نافذ ہوگا اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ این آر سی پر بات ہی نہیں ہوئی۔محمد فرقان نے کہا کہ پہلے تو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ایک جگہ بیٹھ کر یہ طے کرلینا چاہیے کہ ہم میں سے جھوٹ کون بولے گا؟ انہوں نے کہ وزیر داخلہ کے ویب سائٹ پر واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ این پی آر این آر سی کی طرف پہلا قدم ہے۔اور اب یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں کہ این پی آر اور این آر سی الگ الگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کو ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھیوں نے مل کر آزاد کروایا ہے،لہٰذا ہم اپنی آخری سانس تک ایسے سیاہ قانون کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پرمرکز کے رکن شوریٰ حافظ حیات خان، وغیرہ بھی شریک تھے۔ٖ



COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: دستور مخالف شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کبھی قابل قبول نہیں، ہم آخری سانس تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے!
دستور مخالف شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کبھی قابل قبول نہیں، ہم آخری سانس تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے!
https://1.bp.blogspot.com/-A0v0mVBzXDc/Xhxfzo2z-EI/AAAAAAAAc08/9g_9eVO8GbccTfibaX_GlHcJX-jsifLPwCLcBGAsYHQ/s320/Rizwan%2BFurqan.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-A0v0mVBzXDc/Xhxfzo2z-EI/AAAAAAAAc08/9g_9eVO8GbccTfibaX_GlHcJX-jsifLPwCLcBGAsYHQ/s72-c/Rizwan%2BFurqan.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/01/blog-post_36.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/01/blog-post_36.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy