حاضری شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل خواصؓ،بغداد شریف

7 دسمبر 2019 کو شام بعد اثر راقم کو شرفِ حاضری میثر آئی  حضرت ابراہیم خواص ؒ حضرت شیخ جنعد بغدادی رضی اللہ عنہ حضرت شیخ ابو الحسن...



7 دسمبر 2019 کو شام بعد اثر راقم کو شرفِ حاضری میثر آئی 
حضرت ابراہیم خواص ؒ حضرت شیخ جنعد بغدادی رضی اللہ عنہ حضرت شیخ ابو الحسن نوری کے ہم اثر تھے، حضرت معروف کرخی رضہ کی صحبت میں رہے ہیں حضرت معروف نے ان سے کہا تھا کہ فکر کو لازم پکڑو اور اس سے نہ ڈرو، ان کا مذہب مجرد رہنا اور انقطاع تھا ابو جعفر جلدی کے استاذ تھے،
حضرت ممشاد دینوری فرما تے ہیں کہ میں مسجد میں آدھی رات کے وقت نیم خوابی کی خالت میں تھا کہ مجھ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ اگر ہمارے دوست کو دیکھنا چاہتا ہے تو اٹھ کھڑا ہو اور تُوبہ کے ٹیلہ پر جا ،میں جاگا تو برف پڑی ہوئی تھی وہاں پر گیا، خواص کو میں نے دیکھا کے چار زانو بیٹھے ہیں اور اس کے گردش گرد ڈھال کی مقدار پر سبزہ برف سے خالی تھا اور باوجود اس کے کہ جو ان کے سر پر پڑی تھی پگھل جاتی تھی میں نے کہا کہ آپ نے یہ مرتبہ کیسے پایا ؟ کہا کہ" فقراء کی خدمت سے " 
صوفیہ کا حال : ابراہیم خواص اور شیر ،حامد اسود کہتے ہیں کہ جنگل میں ابراہیم خواص کے ساتھ تھا،ہم نے رات ایک دوست کے گھر گزارئ ۔اچانک ایک شیر آگیا ،اور میں درخت پر چڑھ گیا۔اور صبح تک وہیں رہا ،رات بھر مجھے نیند نہیں آئی مگر ابراہیم خواص سو گئے اور شیر سر سے لے کر پاوں تک انہیں سونگتا رہا اور پھر چلا گیا دوسری رات ہم نے بستی میں جاکر ایک مسجد میں گزاری وہاں ایک مچھر ان کے چہرہ پر بیٹھا اور اس نے کاٹا ،آپ نے رونا شروع کر دیا، میں نے کہا ،عجیب بات ہے کل تو آپ شیر سے بھی نہیں گھبرائے اور آج آپ نے مچھر کے کاٹنے سے رو دئیے فرما یا "کل ایسی حالت میں تھا جس میں اللہ کے ساتھ ہوتا ہوں ، مگر اب جو حالت ہے اس میں اپنے نفس کے ساتھ ہوں " (صفحہ ۶۷۱ فصل کرامتِ اولیاء ،رسالہ قشیریہ )
ان کی ولایت کا ایک اہم واقعہ: 
حضور داتا علی ہجویری ؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب " کشف المحجوب" میں "معجزہ اورکرامت " کے باب میں ایک روایت اس دلیل کے طور پر لکھتے ہیں کہ "کرامت" کسی غیر امتی سے ممکن نہیں ہے ۔فرماتے ہیں کہ یہ روایت یا یہ واقعہ "حضرت ابراہیم خواص ؒ" سے مشہور ہے ۔
حضرت ابراہیم خواص ؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار اپنی عادت کے مطابق جنگل میں اپنی " تجرید توحید "یعنی "تصوف میں اپنی خودی اور ماسوا اللہ سے دور ہونے اور حق کی خودی میں مل جانے کو کہتے ہیں"(مصباح التعرف) کے ساتھ تھا کہ چند قدم دور سے ایک شخص اٹھا اور اس شخص نے میرے ساتھ گوشہ نشینی کی خواہش ظاہر کر دی ۔ حضرت ابراہیم خواص ؒ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی نظر اس کے باطن پر ڈالی تو مجھے اس شخص سے نفرت پیدا ہونے لگی میں نے سوچا کہ یہ آدمی کون ہے کہ جس سے میرے دل میں نفرت پیدا ہوئی ہے تو میں نے اس آدمی سے پوچھا کہ تم کون ہو ۔ تو وہ کہنے لگا ۔ اے ابراہیم خواص آپ فکر نہ کریں میں ایک ستارہ پرست نصاریٰ ( عیسائی ) ہوں اور میں بلاد روم سے صرف آپ کے ساتھ صرف گوشہ نشینی کی نیت سے آیا ہوں ۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس کا جواب سن کر مجھے کچھ اطمینان ہوا کہ مجھے نفرت یوں ہی ہوئی تھی کہ شاید یہ ایک بیگانہ شخص ہے ۔ میں نے اسے اپنے ساتھ ہم نشینی کی اجازت دے دی اور میں نے اس شخص سے کہا کہ اے راہب میرے پاس کھانے اور پینے کا کچھ بھی انتظام نہیں ہے اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ کہیں تمھیں میرے ساتھ ہم نشینی میں کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔
راہب کہنے لگا کہ اے ابراہیم آپ شہرت کی اتنی بلندی پر ہیں اور ابھی بھی آپ کو کھانے پینے کاغم ہے حضرت ابراہیم کہتے ہیں کہ مجھے اس کا جواب بہت پسند آیا اور میں نے امتحانا اس آدمی کو اپنے ساتھ لے لیا کہ دیکھیں کہ یہ آدمی اپنے دعوے میں کہاں تک سچا ہے سات روز لگا تار چلنے کے بعد بھوک اور پیاس کی اتنی شدت ہوئی کہ وہ شخص کہنے لگا اے ابراہیم آپ کی کرامت وعرفان کا ڈھول دنیا میں لوگ بجاتے ہیں لیکن اب میں مجبور ہو گیا ہوں کہ آپ کی ولایت کا انکا ر کر دؤں اس لیے کہ اب بھوک اور پیاس نے میری طاقت سلب کر لی ہے۔ حضرت ابراہیم خواص ؒ فرماتے ہیں کہ اب میں اپنی گردن عجز بارگاہ بے نیاز میں جھکا دی اور اپنے مالک ( اللہ تعالیٰ )سے عرض کی کہ اے مالک مجھے اس کافر کے سامنے رسوا نہ کر۔ اب تک اس کا رویہ بیگانہ ہونے کے باوجود میرے ساتھ اچھا ہے ۔ تیرے کرم سے بعید نہیں کہ ایک کافر کے حسن ظن کو جو میرے ساتھ ہے حسن اعتقاد تک پہنچا دے ۔ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنا سر اٹھایا تو ایک طبق یا ایک تھال میں دو روٹیاں اور اور دو پیالے پانی کے رکھے ہوئے ہیں ہم دونوں نے وہ روٹیاں اور پانی کھاپی کر تازگی حاصل کر کے آگے چل دیئے ۔
جب مزید سات روز گزرے تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ آج میں اس راہب کا تجربہ کرؤں۔ قبل اس کے وہ میرا امتحان کرے اور کچھ مجھ سے مانگے میں نے اسے کہا کہ اے راہب کچھ کھانے پینے کے لیے لا کہ آج تیری باری ہے اپنے مجاہدہ کا پھل دکھلا ۔ اس راہب نے بھی اپنا سر زمین پر رکھا اور کچھ کہا کہ ایک طبق یا ایک تھال ظاہر ہوا جس میں چار روٹیاں اور چار پیالے پانی کے تھے میں یہ دیکھ کر بہت پریشان اور مجھے بہت تعجب ہوا اور اپنے گزشتہ ایام کی یا د میں رنجیدہ ہو کر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نے یہ کھانا نہیں کھانا ہے اس لیے کہ یہ کھانا ایک کافر کے لیے آیا ہے اگر میں نے یہ کھانا کھایا تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ میں نے کافر سے مدد لی ۔
راہب کہنے لگا کہ اے ابراہیم اس کھانے کو کھاؤ تو میں نے کہا کہ نہیں میں نہیں کھاؤں گا تو راہب کہنے لگا کہ آپ اس کھانے کو کیوں نہیں کھائیں گے میں نے کہا کہ تو اس امر کا اہل نہیں اور میں امر کو کرامت نہیں مانتا ۔ اس لیے کہ کرامت تیرے حال سے بعید ہے مگر مجھے تعجب ضرور ہے اور میں فکر ہے کہ اس کو میں کیا کہوں اگر کرامت کہتا ہوں تو کافر سے کرامت محال ہے اور اگر معونت کہوں جو کہ کافر کے ساتھ ہو سکتی ہے تو بھی مدعی کو شبہ ضرور ہوتا ہے 
راہب کہنے لگا ۔ اے ابراہیم ؒ آپ اس کھانے کونوش فرما لیں میں آپ کو دو بشارتیں دیتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اس نے کلمہ پڑھا اور دوسرا یہ کہ آپ کا مرتبہ و مقام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بلند ہے میں نے کہا کہ وہ کیسے تو راہب کہنے لگا کہ اے حضرت میرے پاس ایسی کوئی طاقت یا قوت نہ تھی جو کہ آپ نے دیکھی ۔ مگر میں نے آپ کے وسیلہ سے اپنا سر زمین پر رکھا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے الٰہی اگر دین محمد ﷺ حقیقت میں حق ہے اور اور تیرا پسندیدہ دین ہے تو مجھے دو قرض اور دوپیالہ پانی عطا فرما اور اگر ابراہیم خواص ؒ تیرا ولی ہے تو اس کی ولایت کے صدقے میں دو روٹیاں اور دو پیالہ پانی عطا فرما۔ تو جب میں اپنا سر زمین پر سے اٹھایا تو میرے سامنے یہ طبق یا یہ تھال رکھا ہوا تھا ۔ 
حضرت ابراہیم خواص ؒ نے یہ سب قصہ سن کر اس تھال سے کھانا تناول فرمایا اور وہ راہب اس کے بعد اسلامی مشائخ کرام میں شمار ہوا۔ 
حضرت ابراہیم ؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں پیاس سے اس قدر بےِچین ہوا کہ چلتے چلتے پیاس کی شدت سے بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ کسی نے میرے منہ پر پانی ڈالا۔ میں نے آنکھیں کھولی تو دیکھا ایک نہایت خوبصورت آدمی گھوڑے پر سوارہے۔ اس نے مجھے پانی پلایا اور کہا کہ میرے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوجاؤ۔
تھوڑی دیر چلے تھے اس نے مجھ سے پوچھا یہ کون سی آبادی ہے؟میں نے کہا یہ تو مدینہ منورہ آگیا۔ کہنے لگا، اتر جاؤ اور روضہ اقدس پر حاضر ہو تو یہ عرض کردینا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر خضر عہ کا 
سلام ہو ،
شیخ ابوبکر کتانی کہتے ہیں ایک دفعہ خواص سفر سے آئے میں نے کہا کہ جنگل میں کیا عجائبات دیکھیں ؟ کہا حضر علیہ اسلام میرے پاس آئے اور کہا اے ابراہیم تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ہمراہ رہوں میں نے کہا نہیں ،کہا کیوں ؟ میں نے کہا کہ وہ خدا روک والا ہے ،مجھے خوف ہے کہ میرا دل تم سے نہ لگ جائے ،
شیخ السلام نے کہا کہ شیخ خرقانی نے مجھے کو کہا کہ ان باتوں میں سے جو انہوں نے مجھے کہیں تھی، ایک یہ تھی کہ اگر خضر علیہ السلام سے ملاقات کرے تو توبہ کی جو اور اگر ایک رات میں مکعہ پہنچے تو اس سے بھی توبہ کرنا 
(نفحات الانس از حضرت نور الدین محمد عبد الرحمن جامی رح صفحہ ۱۷۳)
حضرت عبد الرحمن نور الدین محمد جامی نے اپنی کتاب نفحات الانس میں شیخ عبد اللہ انصاری کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت شیخ ابراہیم جیسا پر ہیبت ولی اللہ دیکھنے میں نہیں آیا ، حضرت عبد اللہ انصاری فرما تے ہیں کہ میں نے آج تک کسی ولی اللہ کی قبر سے اتنی ہیبت نہیں پائی جتنی حضرت ابراہیم خواص کی قبر سے آتی تھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک شیر ہے جو سویا ہوا ہے ابھی جاگ جائےگا اٹھ بیٹھے گا، جب کھڑے ہوتے تو وضو کرتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے ایک دن پانی میں داخل ہوئے اور وہیں وفات پائی سنہ ۲۹۱ ھ میں وصال ہوا 
ملفوظات : علم اس کے لئے ہے جو علم کی پیروی کرے اسے عمل میں لائے اور سنتوں کی اقتداء کرے اگر چہ علم تھوڑا ہی ہو ، دوسرے کے راس المال کے ساتھ تجارت کرنے والا مفلس ہے ۔ مومن جس قدر اللہ تعالی کے حکم کی عزت کرتا ہے اسی قدرا سے اللہ تعالی عزت عطا فرماتا ہے اور ایمان والوں کے دلوں میں اس کی عزت قائم فرماتا ہے ، 
فقیر کی طرف سے چاہئے کہ خوشحالی میں اس کے اوقات برابر ہوں اپنے فوت پر صابر ہو ، اپنے آپ پر محتاجی کا اثر ظاہر نہ کرے اور اپنی طرف سے کسی ضرورت کا اظہار نہ کرے ۔ کم سے کم اس کے اخلاق ،صبر اور قناعت ہوں ۔ ناز و نعمت سے وحشت محسوس کرے ۔سادگی سے مانوس ہو ۔ یعنی انداز حیات میں مخلوق سے جدا گا نہ طرز کا مالک ہو ، اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ۔ کوئی سبب معروف نہیں ۔تو اسے جب بھی دیکھے اپنے فقر پر راضی اور اپنی تکلیف سے خوش ہو ۔اس کی مشقت اس کے نفس پر گراں ہو اور غیر پر ہلکی ہو ، فقراء کی عزت و تعلیم کرے ۔پوری کوشش کے ساتھ اسے چھپائے یہاں تک کہ اپنے جیسوں سے بھی اسے چھپائے۔ اس بارے میں اس پر اللہ کا عظیم احسان ہو پھر بھی اس سے بڑا احسان نہ سمجھے کہ ہاتھ دنیا سے خالی ہے ۔ 
چار خصلتیں نایاب ہیں عالم اپنے علم پر عمل کرے عارف اپنے فعل کی حقیقت کے متعلق بات کرے ایسا شخص جو سبب کے بغیر اللہ کے لئے قائم ہو ۔مرید جس سے طبع نکل چکی ہو فرما یا کہ مجھسے ایک جنگل میں خضر علیہ اسلام کی ملاقات ہوئی انہوں نے مجھسے مصاحب کی طلب فرمائی مجھے کھٹکا ہوا کہ کہیں میرا توکل دگرگوں ہوجائے اس لئے میں نے جدائی اختیار کی، ایک دوسرے پر فخر کرنا اور کثرت کا دعوی کرنا راحت کو ختم کردیتا ہے۔خود بینی نفس کا مرتبہ پہچاننے سے روک دیتی ہے۔تکبر صحیح کی پہچان روک دیتا ہے اور بخل پرہیزگاری خو روک دیتا ہے ۔ دولت مندوں سے الفت کرنا فقراء کی صفت نہیں اور نہ اہلِ غفلت سے الفت کرنا اہلِ معرفت کا شیوہ۔ 
اللہ کی ناراضگی کے اسباب میں سے یہ ہے کہ ظاہر دنیاکی مذمت کرے اور بچانا اس سے نمٹا ہوا ہو ،، انسان اپنے پرانے لباس میں اس سے زیادہ خوبصورت ہےکہ دوسرے کا نیا لباس پہنے،صحیح معنوں میں وہ شخض ہلاک ہونے والا ہے جو کہ اپنے سفر کے آخر میں راستہ گم ہوجائے حالانکہ منزل بالکل قریب آچکی ہو ۔مرید پر واجب ہے کہ ایسے کی خدمت میں حاضری دے جو اس کے عیب اس پر ظاہر کرے اور زیادتی کی جگہوں کا پتہ دے اور اسے دیکھنا حالات میں تحریک پیدا کرنے کی قوت عطا کرے ،لوگ ندامت اور اقتدار کی قلت کی وجہ سے گرفتار مصیبت نہیں ہوتے بلکہ ایسا صرف وعدہ وفائی کی قلت کی وجہ سے ہوتے ہیں، حضرت شیخ ابراہیم الخواص ؓ کے ایک مرید ابو الحسن النجرانی ؒ نے فر مایا کہ میں صوفیاء پر ان کے علوم کے بارے میں شدید اعتراض کیا کرتا تھا اور جو بھی ان کے پاس حاضر ہوتا اسے برا جانتا تھا میں بغداد میں آیا جب میں حدیث لکھا کرتا تھا میں نے حضرت ابراہیم الخواص کو دیکھا کہ آپ کے ارد گرد ایک جماعت بیٹھی ہے اور آپ ان کے سامنے گفتگو فرما رہے ہیں، آپ کی گفتگو سنی آپ کے کلام کی سچائی نے میرے دل پر اثر کیا میں نے صحیح علم پایا کہ اس پر عمل کے بغیر مخلوق کو کوئی چارہ نہیں میں نے اسی مجلس سے آپ کی خدمت میں حاضری کو لازم کر کیا اور آپ سے جدا نہ ہوا جو کتابیں جمع کی تھیں تقسیم کردیں جو کہ تقیریبا‌‌‍ دو جانوروں کا بوجھ تھا۔ اس کے باوجود آپ میری طرف متوجہ نہ ہوئے نہ کئی دنوں تک مجھ سے کوئی بات کی جب آپ نے مجھ سے طلب علم میں سچائی کو محسوس کر لیا تو مجھے اپنے قرب کا شرف بخشا، آپ سے پوچھا گیا کیا وجہ ہے کے لوگ شعر سنکر وجد میں آجاتے ہیں جب کے قرآن سن کر انہیں وجد نہیں آتا، فرما یا قرآن ہے تو اللہ نور نازل فرماتا ہے اس کے غلبے کی وجہ سے کسے میں حرکت کرنے کا امکان باقی نہیں رہتا ایک حالت سکوت طاری ہوجاتی ہے جبکہ شاعروں کی شدت نفس کو تحریک دیتی اور انسان حرکت کرتا ہے اور وجد میں آجاتا ہے 
(صفحہ 214،215 ،216 طبقاتِ امام شعرانی اردو ترجمہ تصنیف حضرت عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ العزیز)

رسالہ قشیریہ میں ابوالقاسم قشیری لکھتے ہیں میں نے محمد بن الحسین ؒ سے سنا کہتے تھے میں نے احمد بن علی بن جعفر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے الازوی سے سنا وہ فرما تے تھے کہ میں نے خواص کو کہتے ہوئے سناپانچ چیز دل کے لئے دوا کا کام کرتی ہیں تدبر کے ساتھ قرآن پڑھنا، پیٹ کا خالی ہونا، رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا، سحر کے وقت اللہ کے سامنے گڑگڑانا اور دالیں کی صحبت میں بیٹھنا ۔ 
نیذ حضرت شیخ ابو اسحاق ابراہیم خواصؓ کے بہت سے محفوظ و واقعات تصوف کی قدیم کتب میں درج ہیں اور لوگوں کی زبانوں پر ہیں 
ماخذ : نفحات الانس از حضرت نور الدین محمد عبد الرحمن جامی رح،کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش ہجویریؓ ،حضرت طبقاتِ امام شعرانی اردو ترجمہ تصنیف حضرت عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ العزیز) خزینتہ الاصفیاء مصنف غلام سرور لاہوری رسالہ قشیریہ تصنیف ابوالقاسم عبد الدین بن ھوازن قشیری ۔ 


 سید فیض علی شاہ جعفری قادری نیازی 
آستانہ حضرت میکش خانقاہ قادریہ نیازیہ ،میو کٹرہ، آگرہ 
9897491580

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: حاضری شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل خواصؓ،بغداد شریف
حاضری شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل خواصؓ،بغداد شریف
https://1.bp.blogspot.com/-eR6tOcL4bWI/XqrFs1BdP-I/AAAAAAAAgd8/7tBKNK3ZNikUZeQiRIFD8_zxAeiCsXOXACLcBGAsYHQ/s640/IMG-20200429-WA0002.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-eR6tOcL4bWI/XqrFs1BdP-I/AAAAAAAAgd8/7tBKNK3ZNikUZeQiRIFD8_zxAeiCsXOXACLcBGAsYHQ/s72-c/IMG-20200429-WA0002.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/04/blog-post_402.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/04/blog-post_402.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy