آؤ معاشرے کو بولنا سکھائیں۔

میں اس لئے زندہ ہوں کہ میں بول رہا ہوں دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی جب بچّے کی پیدائش اس زمین پر ہوتی ہے تو وہ روتا ہ...




میں اس لئے زندہ ہوں کہ میں بول رہا ہوں
دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی

جب بچّے کی پیدائش اس زمین پر ہوتی ہے تو وہ روتا ہے۔ اُسکا رونا اسکے زندہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسکے رونے میں آواز (ساؤنڈ) ہوتی ہے جسے بچّے کی آواز کہیں يا بولی کہیں۔
یہ قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ اور جب وہی بچّہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اپنے علاقائی مادری زبان میں لفظوں کو ذہن نشین کرتا ہے۔ اور دو تین سال کی عمر ہی میں لفظوں کو بخوبی بولنے لگتا ہے۔ بھرپور جملوں گا استعمال کرتا ہے۔ جس لہجے میں لفظوں کو اسکے کان سماعت کرتے ہیں، جتنی صفائی وہ لفظوں کو سنتا ہے بچّہ بھی اسی تلفّظ کی نقل کرتا ہے اور ہوبہو ویسے ہی بولنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بولنے کے لئے کسی اسکول، مدرسہ، کاپی، کتاب، قلم کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بولنا انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ بولنے ہی سے تبادلہ خیال کے مطابق ہم اپنی بات کو ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں۔ بولنا اور وقت پر بولنا زندہ لوگوں کو اور زندہ قوموں کی نشانی ہے۔
بولنے کے لیئے عام لوگوں سے خطاب کے لیئے بہت زیادہ بھاری بھرکم الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سادہ سہل زبان اور آسان لفظیات میں ہی کہی گئی بات لوگوں تک آسانی سے پہنچتی ہے، لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے۔ لوگوں کے دل میں گھر کرتی ہیں۔ ہاں لیکن تعلیم گفتگو میں چار چاند لگاتی ہے اور ذخیرہ الفاظ میں وسعت پیدا کرتی ہے۔ ایک بات کو مختلف انداز میں پیش کرنے کہ فن لوگوں میں مطالعے اور لفظوں کے استعمال سے آتا ہے۔ تعلیم گفتگو کا حسن ہے۔ 
کسی شاعر نے کہا کہ۔
بات لاکھوں کی لاج ہوتی ہے
بات ہر بات کو نہیں کہتے
بات مشکل سے بات ہوتی ہے
اب میں مطلب کی بات پر آتا ہوں: اسکول، کالج، مدرسے، طالبِ علم کو بہت قابل اسکالر اپنے مضمون میں ماہر انسان تو بناتے ہیں لیکن بولنا نہیں سکھاتے۔ کئی درجنوں کتابوں کے مصنّف کاغذ پر ہیرو لیکن منظرِ عام پر بولنے میں زیرو ہوتے ہیں۔ جبکہ لکھی ہوئی بات سے بولی ہوئی بات زیادہ آسانی سے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک بنا پڑھا لکھا شخص بھی بولی ہوئی بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ جبکہ کاغذ یا کتاب میں لکھی ہوئی بات کو پڑھا لکھا شخص ہی سمجھ سکتا ہے۔
  آجتک ہمارے تعلیمی نظام نے عام طور سے بولنا سکھانے کی کوئی تربیت کا انتظام نہیں کیا جو کہ انسانی زندگی کی پہلی اور سب سے ضروری ضرورت ہے۔
جبکہ کوئی اعلیٰ اور معیاری ڈگری لینے کے لیئے ایک مدت درکار ہوتی ہے جبکہ بولنا سکھانے کے لیئے بہت کم وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بولنے کی کلا انسان کو بہت بلندی پر لے جاتی ہے۔ بولنے کی بناء پر لوگ بہت کم وقت میں زمانے پر اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ زمانہ قابلیت کا لوہا ماننے لگتا ہے۔ لوگ عش عش کر اٹھتے ہیں۔ منہ سے نکلی ہوئی بات: تیر، بندوق سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔
کہیئے گا بات سوچ سمجھکر زُبان سے
لوٹا نہ کبھی تیر نکل کر کمان سے
بولنے کی بناء پر لوگوں نے قوموں، خطّوں اور ملکوں پر حکومت کی ہے۔
وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی، ذوالفقار علی بھٹو، بےنظیر بھٹو، ہٹلر، اندرا گاندھی اپنے عہد کے بہت مقبول لیڈر اسلئے کہلائے کیونکہ انہیں الفاظ کی پینٹنگ اور بولنے کی کلا آتی تھی۔ عوام میں اثر انداز ہونے کے لئے بولنا بہت ضروری ہے۔
منظرِ عام پر بولنے کے لیئے جھجھک کو دور کرنا ہوتا ہے۔ اپنے بچّوں کو کامیاب انسان بنانے کے لیئے بولنا سکھایا جانا ضروری ہے، اُنہیں بولنا سکھاؤ، اُنہیں بہادر بناؤ، اُنہیں اپنی بات رکھنے کے فن میں ماہر بناؤ۔ اُنہیں تعلیم کے ساتھ۔ساتھ بولنے کی تربیت کی بنیاد سکولوں، کالجوں کے کلاس روم میں رکھو۔ 
شاعر نے کہا ہے کہ:
پھلے پھولے کیسے یہ گونگی محبّت
نہ وہ بولتے ہیں نہ ہم بولتے ہیں
بولنا بچّوں کو بہادر بناتا ہے۔ بولنا ایک پیغام دیتا ہے۔ بولنا ترقی کی نشانی ہے۔ بولنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ بولنا زمانے کی ضرورت ہے۔ اچّھا اور عمدہ بولنا سر بلندی کا سبب ہے۔ بولنے کے ذریعے بہت کم وقت میں لاکھوں لوگوں تک اپنی بات کو پہنچایا کا سکتا ہے۔ بولنا حیات کاقصد طے کرتا ہے۔ بولنا روزی، روٹی سے جوڑتا ہے۔ بولنا اور ٹھیک وقت پر بولنا بڑے لوگوں کی نشانی ہے اور اچّھی ذہانت کا سبب ہوتی ہے۔ بولنے کے وقت خاموش رہنا اور خاموش رہنے کے وقت بولنا زہر کا کام کرتا ہی۔ اسلئے شاعر وسیم بریلوی نے کہا ہے:
کب کہاں کیسے کوئی بات کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے
آج ہمارے سماج کو ضرورت ہے اچھے وکیلوں کی۔ بہترین مقرّر کی۔ منجھے ہوئے صحافیوں کی۔ اچّھے tv اینکر کی، اچھی کمیونیکیشن اسکل میں ہی قوموں اور سماج کی بھلائی ہے۔
آج tv پر جو سیاسی ڈیبیٹ ہوتی ہے: کم لفظوں میں جامع الفاظ میں بات رکھنے والے لوگ بہت کم نظر آتے ہیں۔ ایک خاص کمیونیٹی کو لیکر جو غلط فہمیاں سماج میں رائج ہو گئی ہیں اس کمی کے سبب انکی اصلاح نہیں ہو پا رہی ہے۔ میرے سماج اور وطن کے لوگو! خاص طور پر مسلم بھائیو! میری آپ سے گزارش ہے اپنے بچّوں کو جدید تعلیم کے ساتھ۔ساتھ جدید کمیونیکیشن اسکل کا بھی ماہر بناؤ۔

محمد علی تاج

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: آؤ معاشرے کو بولنا سکھائیں۔
آؤ معاشرے کو بولنا سکھائیں۔
https://1.bp.blogspot.com/-tCNc9ZF9Hhs/XpmiruT8vJI/AAAAAAAAf8M/iMnlS3yfUwoNJjmNot1DhYzBrIYDC7aRwCLcBGAsYHQ/s320/IMG-20200404-WA0066%2B%25281%2529.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-tCNc9ZF9Hhs/XpmiruT8vJI/AAAAAAAAf8M/iMnlS3yfUwoNJjmNot1DhYzBrIYDC7aRwCLcBGAsYHQ/s72-c/IMG-20200404-WA0066%2B%25281%2529.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/04/blog-post_81.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/04/blog-post_81.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy