رمضان المبارک کا ایک مختصر تعارف

       مولاناسیّدشاہ محمّدرَیّان ابوالعلائی                                       خَانقَاہِ سجَّادِیہَ اَبُوالعُلَاءِیہَ        ...

       مولاناسیّدشاہ محمّدرَیّان ابوالعلائی   
                                   خَانقَاہِ سجَّادِیہَ اَبُوالعُلَاءِیہَ
                                            شاہ ٹولی،داناپور،پٹنہ
رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے رمضان رمض سے ماخوض ہے رمض بمعنی جلانا ہے چونکہ یہ مہینہ بھی مسلمانوں کے گناہوں کو جلادیتا ہے اس لئے اسے رمضان کہاجاتاہے، یہ رمض سے مشتق ہے جس کامعنی گرم زمین سے پاؤں جلنا، ماہ صیام بھی نفس کے جلنے اور تکلیف کا موجب ہوتا ہے لہذا اسے رمضان کہا گیا اور رمضان گرم پتھرکو بھی کہتے ہیں جس سے چلنے والوں کے پاؤں جلتے ہیں جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا تھا اس وقت بھی موسم سخت گرم تھا۔ فضیلت رمضان:امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ رمضان المبارک تمام مہینوں سے افضل ہے جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں سے حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد ماجد کو زیادہ محبوب تھے اسی طرح سال کے بارہ مہینوں سے رمضان اللہ پاک کو زیادہ محبوب ہے،اور جس طرح اللہ پاک نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واسطے باقی گیا رہ بھائیوں کی مغفرت فرمائی ہے اسی طرح رمضان المبارک کی برکت سے گیارہ مہینوں کی خطائیں معاف فرمائے گا۔ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں پانچ حروف ہیں،۔ ر : جو عبارت ہے رضوان خدا سے۔ م : جو عبارت ہے محاباۃ خدا سے۔ ض : جو عبارت ہے ضمان خدا سے۔ ا : جو عبارت ہے الفت خدا سے۔ ن : جو عبارت ہے نور خدا سے۔ پس رمضان مبارک مسلمانوں کے لئے رضائے خدا،محاباۃ خدا،ضمان خدا،الفت خدا اور نور خدا کا موجب ہوتاہے،غرض ہے کہ رمضان مبارک کی فضیلت کا کیا پوچھنا یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس کی آمد پر جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اوردوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتاہے،سبحان اللہ رمضان مبارک کی کیا عظمت و شان ہے کہ اس کی آمد کے لئے جنت کو سجایا جاتا ہے اورحوریں مزین و آراستہ ہوکر اپنے اپنے خاوند کو پیارے پیارے الفاظ سے بلاتی ہیں۔
    بقول حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری قدس سرہ 
                     مہینا ہے روزوں کا بیشک ہمایوں        عبادات کے واسطے ہے یہ موزوں 
                     ہے امت اسی پر دل و جاں سے مفتوں    مسلمان ہوں جان اس پر نہ کیوں دوں 
                     خدا کو بھی پیارا نبی کو پیارا گنہگار امت کاہے یہ سہارا
احترام رمضان:ہر مسلمان مردوعورت پر واجب اور ضروری ہو کہ وہ ماہ رمضان کا پورا احترام کرے خود روزہ رکھے،اگر اس پر اس وقت روزہ فرض نہیں ہے،جیسا کہ حیض و نفاس والی عورت یامسافر ہو یا روزہ تو اس پر فرض ہے مگر اپنی کوتاہی سے روزہ نہیں رکھتاتوسب کو چاہئے کہ وہ کم ازکم رمضان پاک کا احترام ضرور کریں کسی روزہ دار کامذاق نہ اُڑائیں دوکاندار ہے تو ایسی چیزوں کو فروخت نہ کرے جس کوبے روزہ لوگ کھاتے ہیں اور خودعلانیہ طور پر کھائے پئے نہیں اور نہ سر عام سگریٹ اور حقہ نوشی کرے،فقہائے عظام نے فرمایا ہے کہ رمضان میں علانیہ کھانے اور پینے والے کوقتل کیاجائے،بشرطیکہ اسلامی حکومت ہو ورنہ اس کی اس نازیبا حرکت کواظہار نفرت تو کی جائے اور دل سے اسے برا سمجھا جائے۔
روزہ:رمضان مبارک کے روزے ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض ہیں،اس کی فرضیت کا منکر اور تارک گناہ گار مردودالشہادۃ ہے،مسلمان جب روزے رکھے گا تو اپنے فرض سے سبکدوش ہوگا،اوردوسرے بہت بڑے ثواب کامستحق بنتا ہے،مشکوٰۃ کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایمان سے اور ثواب سمجھ کر رمضان شریف کے روزے رکھے تو اس کے پہلے گناہ بخشے جاتے ہیں،ارکان اسلام کا ایک رکن روزہ ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے سب سے اول توحید و رسالت کااقرار اس کے بعد اسلام کے چار رکن ہیں،نماز،روزہ،زکوٰۃ اور حج،کتنے مسلمان ہیں جو مردم شماری میں مسلمان شمار ہوتے ہیں،لیکن ان چار کنوں میں سے ایک کو بھی کرنے والے نہیں ہیں،البتہ وہ سرکاری کاغذات میں مسلمان لکھے جاتے ہیں،مگر اللہ تعالیٰ کے دفتر میں وہ کامل مسلمان شمار نہیں ہوسکتے،اس لئے روزہ نہ رکھنا کبیرہ گناہ ہے یہ بھی اس وقت ہے کہ جب وہ روزے کی فرضیت کااعتقاد رکھتا ہو اور جواس کی فرضیت کا انکار کرے تو وہ بلا شبہ کا فر ہے۔
بقول حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری قدس سرہ 
                         دن اس کا سہاناہے رات اس کی اچھی         نئی شان آئی نظر ہر گھڑی کی 
                         برستی ہے ہر وقت رحمت کی بدلی              کہ گرمی میں آئے ہو اٹھنڈی ٹھنڈی
                                               نہ ہو پیاس کی روزہ داروں کوشدت  
                               سَحری: مسلمانوں کو چاہئے کہ رمضان مبارک میں سحری کے وقت اٹھیں اور حسب ضرورت کھاناتیار کر کے کھائیں، اگر چہ ایک لقمے ہی ہوں یا کجھور کے چند دانے کھالے کیونکہ یہ کھانا باعث برکت ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سحری کیا کرو کہ سحری کے کھانے میں برکت ہے،نیز سحری کے وقت اٹھنا اور کھانا کھانا اسلام کا شعار ہے،اہل کتاب اس سعادت سے محروم ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل اسلام اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کا کھاناہے،خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام سحری کے وقت جاگا کرتے تھے اور کھانا تناول فرمایا کرتے تھے، لہذا سحری کے وقت کھانا کھانا سنت ہے اور روزہ بند کرتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہئے  بصوم غدٍ نویت من شھر رمضان۔
اِفطار:جب پوری طرح سورج غروب ہوجائے توحلال اور طیب چیز سے روزہ افطار کرے اور یہ دعا پڑھے الہم انی لک صمت وبک امنت وعلٰی، افطار میں جلدی کرنی چاہئے اتنی تاخیر نہ ہو کہ ستارے نکل آئیں کیوں کہ ایسا کرنا کراہت سے خالی نہیں ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ لوگ ہمیشہ (امت مسلمہ) خیریت پررہیں گے جب تک جلدی روزہ افطار کریں گے اور افطار میں تاروں کا انتظار نہ کریں گے،اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دین اسلام ہمیشہ غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار ی میں جلدی کرتے رہیں گے،کیوں کہ یہودی اور نصرانی افطار ی میں دیر کرتے ہیں،فائدہ: اس کی جلدی کامطلب یہ نہیں کہ ابھی سورج اند ر باہر ہو اورپور ی طرح غروب نہ ہوا ہو تو روزہ توڑ دیا جائے ایسا کرنے سے سارے دن کی محنت ضائع ہوجائے گی اور نہ ہی ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر مزید ہے۔
بقول حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری قدس سرہ 
                           جو بچے ہیں ان کوبھی صبر آگیا ہے                وہ کہتے ہیں روزہ ہمیں بھا گیاہے
                           کوئی غسل کرنے کو دریا گیا ہے                 کوئی سیر کو سوئے صحرا گیا ہے
                                             وہ چل پھر کے تاوقت افطار آئے
                                              کچھ افطار کی چیزیں ہمراہ لائے 
تراویح:رمضان مبارک کے مہینہ میں نماز عشاء کے بعد بیس رکعت نماز تراویح پڑھنی صحیح مذہب میں سنت موکدہ اور تمام آئمہ دین اس کے سنت ہو نے پر متفق ہیں، رافضیوں کے علاوہ کوئی جماعت تراویح کی منکر نہیں ہے،مسلمان مرد کے لئے مسجد میں جماعت سے تراویح پڑھنی چاہئے اور مسلمان عورت کواپنے گھر کی چاردیوری میں تراویح پڑھنی چاہئے بہتر ہے کہ دو دو رکعت پڑھی جائے،اکیلا پڑھ رہا ہو تو پہلی رکعت میں الم ترکیف پڑھے اوردوسری میں قل ھو اللہ احد پڑھے اور تیسری میں لایلف قریش پڑھے اور چوتھی رکعت میں قل ہو اللہ احد پڑھے اسی طرح اگلی سورتوں کو معہ قل ہو اللہ احد پڑھتا جائے،جب پندرہویں اور سولہویں رکعت پڑھے تو دونوں رکعتوں میں قل ہو اللہ احد پڑہے اور سترہویں میں قل ہواللہ احد اور اٹھارہویں میں قل اعوذ برب الفلق پڑھے اور انیسویں رکعت میں قل ھو اللہ احد اور بیسویں رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھییا پہلی دس رکعتوں میں الم ترکیف سے لے کر قل اعوذ برب الناس تک پڑھے اور پھر دوسری دس رکعتوں میں الم ترکیف سے شروع کرلے۔
تراویح پڑھتے وقت ہر چار رکعت کے بعد نمازی کو اختیار ہو کہ تسبیح پڑھے یا قرآن مقدسہ پڑھے یا نفلیں پڑھے خواہ خاموش رہے اگر تسبیح پڑھے تو یہ پڑھے: سبحان ذی الملک و الملکوت سبحان ذی العزۃ والعظَمۃ والہیبتہ والقدرہِ والکبریاء والجبروت سبحان الملک الحی الذی لا ینام ولا یموت سبوح قدوس ربنا و رب الملائکۃ والروح الہم اجر نا من النار یا مجیریا مجیریا مجیر درود بر سید عالم  سیدنا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم الصلوۃ۔
بقول حضرت شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری قدس سرہ 
                            تراویح کا لطف کیونکر بیاں ہو              وہی اس کوجانے جوقرآن خواں ہو
                            خدا کیوں نہ ان لوگوں پر مہر باں ہو          یہ قرآن  سننے چلے اب جہاں ہو
                                            قدم طاعتِ حق میں ان کے گڑے ہیں 
                                              حضور ِ خدا دست بستہ کھڑے ہیں 
                        تراویح سے نہ ڈرنا روزوں سے دہشت          بہت خوش ہیں دل کرررہے ہیں عبادت
                        یہ ہیں اہل ایمان یہ ہیں اہل جنت                خدا کے ہیں عاشق نبی سے محبت
                                                جو کچھ حکم ہے وہ بجا لارہے ہیں 
                                              مسلمانوں کی شان دکھلارہے ہیں 
                 رہے دل کوتاہ وقت افطار فرحت 
اعتکاف:جس مسجدمیں اذان اور جماعت ہوتی ہو وہاں اللہ پاک کی رضا کے لئے نیت کے ساتھ ٹھہرنااعتکاف کہلاتا ہے، معتکف اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس نے حالت حیات ہی میں اپنا بال بچہ اور گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا ہے،اور کہتا ہے کہ ائے مولیٰ تیرے گھرمیں آگیا ہوں اور قاعدہ ہے کہ اگر گھر والا کریم اور عزت والا ہو تو وہ ضرور ہر اس شخص کی عزت و اکرام کرتا ہے جو اس کے گھر میں آئے خواہ وہ دشمن ہی کیونہ ہو،بھلارحمن ورحیم جوسب کا مالک ہے اس کے گھر میں جو مسلمان پناہ لے تو وہ کریم ذات اس کا کس قدر اکرام فرمائے گا،اس سے معلوم ہو اکہ اعتکاف کی بہت بڑی فضیلت ہے کیونکہ اللہ پاک اس کی عزت افزائی فرماتا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم معتکف کے متعلق فرماتے ہیں وہ گناہوں سے باز رہتا اور نیکیوں سے اسے اس قدر ثواب ملتا ہے کہ جیسے اس نے تمام نیکیاں کیں ہیں اس حدیث شریف میں اعتکاف کے د وبڑ ے فائدے ابن ماجہ اور مشکوٰۃ المصابیح میں ارشاد فرمائے گئے ہیں ایک یہ کہ انسان اعتکاف کی برکت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بہت سے نیک اعمال مثلاً نماز جنازہ،عیادت مریض،اعانت مظلوم وغیرہ جو اعتکاف کی وجہ سے نہیں کرسکتے مگر معتکف کو ان سب اعمال صالحہ کا ثواب مسجد میں بیٹھے ہوئے ملتا رہتا ہے۔
نوٹ مرد کو چاہئے کہ وہ مسجد میں اعتکاف بیٹھے،جس میں اذان اور جماعت ہوتی ہے اور عورت اپنے گھر میں ایک مخصوص جگہ پر اعتکاف بیٹھے۔

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: رمضان المبارک کا ایک مختصر تعارف
رمضان المبارک کا ایک مختصر تعارف
https://1.bp.blogspot.com/-qubOdqe0i3Y/Xq1-B_Si1uI/AAAAAAAAghI/fe8p_vsaF1skf8w3ofp8zDqEBR1tPTGwQCLcBGAsYHQ/s640/4.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-qubOdqe0i3Y/Xq1-B_Si1uI/AAAAAAAAghI/fe8p_vsaF1skf8w3ofp8zDqEBR1tPTGwQCLcBGAsYHQ/s72-c/4.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/05/blog-post_31.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/05/blog-post_31.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy