*مسلمان لوک ڈاءون میں الوداع جمعہ اور عید سعید کو کیسے منائیں*

الحمد للہ رمضان المبارک کا با برکت مہینہ چل رہا ہے اسکے اختتام میں ابھی تین دن باقی ہیں. رمضان المبارک میں بے پناہ برکتیں، رحمتیں حاصل...



الحمد للہ رمضان المبارک کا با برکت مہینہ چل رہا ہے اسکے اختتام میں ابھی تین دن باقی ہیں. رمضان المبارک میں بے پناہ برکتیں، رحمتیں حاصل ہو رہی ہیں اور عبادتوں میں بھی سرور آ رہا ہے . وہ سحری کی برکت، افطار کی عظمت اور قرآن کی تلاوت میں کیا لطف آ رہا ہے ،

 لیکن اب تین دنوں کے بعد وہ رونقیں ختم ہو جائیں گی. 
کیوں کہ اس بار کووڈ 19( لوک ڈاءون) کی وجہ سے مسلمانوں نے مسجدوں میں بغیر جائے نمازیں اور دیگر عبادات  نے اپنے گھروں میں ہی ادا کی ہیں. ضلع انتظامیہ کی گاءیڈ لائن پر مسجدوں کے اندر صرف اور صرف پانچ لوگوں کو ہی نماز پڑھنے کی اجازت تھی،تو پھر جمعہ کی نماز اور عید میں تو با کثرت نمازیوں کا جم غفیر رہتا ہے، تو پھر کس طرح سے نماز جمعہ مسجدوں میں ادا ہوتی .
مجمع میں کورونا کے پھیلنے کا خدشہ بھی زیادہ رہتا ہے اس لئے مسلمانوں نے لوک ڈاءون کا دل سے استقبال کیا اور عبادتوں کو بھی علمائے کرام  کے فتووں پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں نے تمام نمازیں اور خصوصی جمعہ کی جگہ ظہر کی نماز اپنے گھروں میں فردن فردن ادا کی. 
*مگر یہ میری اپنی رائے ہے کہ سال میں ایک مہینہ تالا بندی ہونا چاہیے یعنی رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمان اپنے سب کاروبار کے بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف اللہ پاک کی عبادت و تلاوت اور اپنے رب کی رضا کے لئے تیس روزے اہتمام کے ساتھ پورے کر سکے*. 
مگر اس بار شعبان اور رمضان المبارک لوک ڈاءون میں ہی گزرے ہیں. 
اور اب 18-5-20 سے چوتھے لوک ڈاءون کے چلتے ہوئے حکومت ہند نے ابھی بھی عبادت گاہوں کو عام لوگوں کے لئے بند کیا ہوا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ ہمارا پورا ملک ہندوستان کورونا جیسی مہلک بیماری سے لڑ رہا ہے اور تمام ہندوستانیوں کا یہ فریضہ ہے کہ ملک کی اور تمام باشندگان ملک کی حفاظت کے لئے حکومت کی گائڈ لاءن پر عمل کریں. 
*الوداع جمعہ کے لئے بھی ہم مسجدوں میں نہ جاکر اپنے گھروں میں ہی الوداع جمعہ کی جگہ نماز ظہر ادا کریں*. 
اس رمضان المبارک میں کوئی بھی افطار کی تقریبات نہیں کی گئیں. 
مسلمان مارکیٹ اور شاپنگ مال میں جانے سے گریز کر رہے ہیں. وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم نے خریدو فروخت کی تو فزیکل دسٹینس کے خلاف ورزی ہوسکتی   کورونا کے کیس بڑھ جائیں گے اور اسکا الزام مسلمانوں کے سر آئے گا 
*"بجلیاں گرتی ہیں بے چارے مسلمانوں پر"*
 وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے حالات دگر گوں ہو چکے ہیں. مزدور راستوں میں میل و پیدل سفر کر رہے ہیں. غریب و مفلس بھوک اور پیاس سے پریشان ہیں. ہمارے ملک کے معاشی حالات بہتر نہیں ہیں. 
موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی پوری کوشش کر رہے ہیں  کہ ہم اس بار نیو کپڑے نہیں پہنیگے  بلکہ اس پیسے سے ہم غریبوں کی مدد کریں گے اور بے سہاروں کا  سہارا سہارا بنیںگے.
 *کیونکہ کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ کا پڑوسی بھوکا ہو اور آپ کھا کر سو جائیں کل میدان حشر میں اس کا سوال ہوگا(حدیث)*. 
اس بار حالات کچھ ایسے ہی ہیں کہ لوگ فاقہ کرنے پر مجبور ہیں. 
 ایک شخص کے پاس مال و دولت ہے اور وہ صاحب نصاب ہے تو اپنے مال کو غریبوں میں تقسیم کرے انکی خوشیوں میں شامل ہو. 
ایک ایمان والے کی غیرت کو یہ گوارا نہیں مسجدوں میں عبادت بند ہو اور ہم عید کی خوشیوں میں مصروف رہیں. 
*عید تو اس کی ہے جس نے رب کی رضا کے لئے روزے رکھے*

*عید تو اصل اللہ تعالیٰ کے شکرانے کا نام ہے*

ایک مشہور و معروف بادشاہ گزرے ہیں جنکا نام خلیفہ حضرت امیر المومنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز تھا ایک مرتبہ عید کے دن انہوں نے نہ خود نیو کپڑے پہنے اور نہ انکے بچوں نے پہنیں اور عید کو یونہی سادہ پرانے کپڑوں میں ملبوس ہو کر عید کی نماز ادا کی. اور آپ بہت روئے اور کہنے لگے کہ نہ جانے میرے رب نے میرے روزوں کو قبول بھی کیا ہے یا نہیں،
 اصل عید تو اس کی ہے جس کے روزوں کو رب نے قبول کر لیا ہے. 
*ہاں اس بار کا الوداع جمعہ اور عید تاریخی ہونگے* 
کیوں کہ اس بار عید کی نماز عید گاہوں اور دیگر مساجد میں عام لوگوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہے،
*اس لئے عید کی نماز کی جگہ اپنے گھروں میں چار رکعت نماز چاشت ایک سلام سے ادا کریں، اور اسکا وقت صبح 8سے10 کا درمیانی وقت رہے گا. اور یہ نماز بغیر جماعت کے ادا کی جائے گی*. 

سوشل ڈسٹینسگ پر عمل کرتے ہوئے اپنے چہروں پر ماسک لگائیں  ساتھ ہی اپنی خوشیوں میں مزید اضافے کا سبب بنے کے لئے  *ڈاکٹر، پولس، صفائی کرمیوں  اور اپنے ضلع انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کریں*. 
 ہم اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوش و خرم ہو کر عید منائیں. اس بار معانقہ یعنی عید نہ ملے بلکہ زبانی اور سوشل میڈیا کے ذریعے مبارکباد پیش کریں. *خصوصی مسلمانوں سے اپیل ہے کہ اپنی عبادتوں میں اپنے عزیز ملک ہندوستان کے لئے دعا کا اہتمام کریں کہ امن و امان قائم رہے اور ملک میں کورونا جیسی بیماری سے  ہمیں نجات ملے. 

*محمد ارشد خان رضوی فیروزآبادی* 
*صدر آگرہ منڈل، سنی علماء کونسل بریلی شریف* 
9259589974 
*مضمون نگار شعبہ اردو سینٹ جانس کالج آگرہ سے وابسطہ ہیں

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: *مسلمان لوک ڈاءون میں الوداع جمعہ اور عید سعید کو کیسے منائیں*
*مسلمان لوک ڈاءون میں الوداع جمعہ اور عید سعید کو کیسے منائیں*
https://1.bp.blogspot.com/-qrezcShzovw/XsPqK4cnhdI/AAAAAAAAg1c/ujXgmwJIjt4yUwgKg0qCUWO4NAgnkk6pACPcBGAYYCw/s640/IMG_20200421_170050.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-qrezcShzovw/XsPqK4cnhdI/AAAAAAAAg1c/ujXgmwJIjt4yUwgKg0qCUWO4NAgnkk6pACPcBGAYYCw/s72-c/IMG_20200421_170050.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/05/blog-post_60.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/05/blog-post_60.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy