تذکرہ حضرت مولانا سیدشاہ ہلال احمد قادری مجیبی

  (پیدائش1957ء……وفات2020ء) مولاناسیّدشاہ محمّدرَیَّان ابوالعُلائی خَانقَاہ سجَّادِیہ اَبُوالعُلَاءِیہ شاہ ٹولی،داناپور 7301242285 خانقاہ مجی...

 

(پیدائش1957ء……وفات2020ء)

مولاناسیّدشاہ محمّدرَیَّان ابوالعُلائی
خَانقَاہ سجَّادِیہ اَبُوالعُلَاءِیہ
شاہ ٹولی،داناپور
7301242285

خانقاہ مجیبیہ،پھلواری شریف محتاج تعارف نہیں ہے، یہاں کی عظمت و رفعت سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے، پھلواری شریف جسے بزرگوں کی اصطلاح میں جنت نشاں کہتے ہیں کئی صدیوں سے آباد وشاد ہے، ابتدائی دور میں یہ جگہ فوجیوں کا مسکن ہواکرتا تھا اس میں روحانی و عرفانی تعلیم کا آغاز اور مستقل اسلامی آبادی کی بنیادحضرت سید منہاج الدین راستی (متوفیٰ 787ھ)نے رکھی آپ حضرت مخدوم جہاں کے تربیت یافتہ ہیں،پھر اس خدمت کو حضرت عمادالدین قلندر (متوفیٰ1124ھ)،حضرت پیر مجیب اللہ قادری (متوفیٰ1191)،حضرت مولانا شاہ عبدالمغنی قادری منعمی(متوفیٰ1233ھ)،حضرت مولانا شاہ عبدالغنی منعمی (متوفیٰ 1272ھ)نے اپنے اپنے عہد میں بخوبی انجام دیاتب سے یہ جگہ دعوت و توحید کا علمبرداربنا،باطنی تعلیم کے ساتھ ظاہری علوم کا بھی زور رہا،رفتہ رفتہ اولیائے پھلواری نے اس قصبہ کو تصوف کا جامہ پہنایا،دینی اور تبلیغی سلسلے کو وسعت دی جس کے ذریعہ عوام کو بڑا فضل و شرف حاصل ہوااورشریعت وطریقت کاایک مینار روشن ہوا،فقرا ہو یا علما سبھی کو یہاں سے خاصی انسیت رہی ہے،خانقاہ مجیبیہ سے کئی ہستیوں کا ظہورہوا ہے جن میں حضرت نعمت اللہ قادری،حضرت ابوالحسن فردؔ، حضرت علی حبیب قادری نصرؔ، مولانا شاہ محی الدین قادری، مولانا شاہ امان اللہ قادری،اور مولانا شاہ عون احمد قادری خصوصی طور پر شمار کئے جاتے ہیں انہی میں عہد رفتہ کی ایک عظیم ہستی،جید عالم دین،فاضل متین،مصنف،ادیب وشاعر،شفیق مدرس،شیریں مقرر، محقق اور صوبہئ بہار کی ایک متحرک شخصیت مبلغ اسلام حضرت مولانا سیدشاہ ہلال احمد قادری مجیبی نوراللہ مرقدہٗ بھی ہیں جو اپنی گوناگوں خصوصیات کے حامل تھے،نہایت خوش اخلاق،مہمان نواز،تواضع و انکسار اور دیرینہ روایات کے امین تھے۔
آپ کا تعلیمی دور اپنے دامن میں فضل و کمال،اوصاف و محاسن اور تحقیق و جستجو کا غیر معمولی خزانہ سمیٹے ہوئے تھا انہوں نے علم وادب کے حصول میں دن رات خود کو مصروف رکھا، کتب بینی میں مستغرق رہنا فطرت میں داخل تھا،بعض اہم فنون کی طرف طبیعت زیادہ مائل تھی بالخصوص علم حدیث،علم تفسیر، علم الاخلاق اورتاریخ و تذکرہ سے بے حد دلچسپی تھی،آپ نے بڑے بڑے علما و صلحا کی صحبت بھی اُٹھائی تھی،شاہ ہلال احمد قادری منفرد واعظ،بہترین مصنف اور خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کے ترجمان اور نمائندہ خاص تھے،اس سلسلے میں مولانا عبداللہ عباس ندوی

صاحب کا بیان قابل توجہ ہے


”عزیزگرامی مولوی شاہ ہلال احمد سلمہٗ اللہ اپنے جواں مرگ والد مولانا شاہ عین احمد مرحوم کی یادگار،اپنے جد امجد امام المتقین مولانا شاہ نظام الدین کی آغوش تربیت کا نمونہ ہیں،اپنے چچا مولانا شاہ امان اللہ قادری قدس سرہٗ کے دست گرفتہ اور مجاز ہیں، لکھنے کا ذوق فطری بھی ہے اور اکتسابی بھی“ (سیرتِ پیرمجیب،ص2)
حضرت مولانا شاہ بدراحمد مجیبی صاحب رقمطراز ہیں کہ
”مولانا شاہ ہلال احمد قادری کی ولادت شعبان 1377ھ کو پھلواری شریف میں ہوئی،پانچ برس کی عمر میں یتیمی کا داغ اٹھایا،اس کے بعد جد مکرکم نے اپنی کفالت و تربیت میں لے لیا اور آپ کی تمام تربیت و نگہداشت کی ذمہ داری اُٹھائی،تعلیم کا زیادہ حصہ جد مکرم سے ہی حاصل کیا،دارالعلوم مجیبیہ کے اساتذہ سے اور بھی تحصیل علم کیا،خصوصاً اپنے پیرومرشدحضرت مولانا شاہ محمد امان اللہ قادری قدس سرہٗ اور اپنے خال مکرم حضرت مولانا شاہ عماد الدین قادری سے فقہ واصول اور تفسیر وحدیث کی کتابیں پڑھیں،بخاری شریف اور حدیث کی دیگر کتابیں حضرت مولانا شاہ عون احمد قادری سے پڑھ کر درسیات کی تکمیل کی،بیس سال کی عمر میں 1977ء میں دارالعلوم مجیبیہ سے فارغ التحصیل ہوئے، فراغت کے بعد سے ہی اپنے آبا واجداد کے طریقہ پر علوم دینیہ کی تدریس شروع کی،حالیہ وقت میں صحیحین کی تدریس بھی آپ کے ذمہ تھی،آپ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ نے درسیات سے فراغت کے بعدقرآن کریم حفظ کیاتھا،علوم اسلامیہ کی تحصیل کے تحصیل کے بعد آپ نے علوم باطنی بھی اپنے بزرگان سے حاصل کئے،اس سلسلے میں اپنے پیرومرشد حضرت مولانا شاہ محمد امان اللہ قادری،اپنے عم مکرم مولانا شاہ عون احمد قادری اور اپنے خال معظم مولانا شاہ عماد الدین قادری سے باطنی استفاضہ کیا،آپ کو اپنے پیرومرشد سے آپ کو اجازت وخلافت بھی حاصل تھی“
شاہ ہلال احمد قادری اپنے والد شاہ عین احمد(پیدائش 1349ھ……وفات1371ھ)کے فرزند ارجمند،مولانا شاہ نظام الدین قادری کے نبیرہ،مولانا شاہ قمرالدین قادری کے نواسہ، اورمولانا شاہ امان اللہ قادری اور مولانا شاہ عون احمد قادری کے برادرزادہ تھے۔
حکیم شاہ شعیب احمد پھلواروی آپ کے والد ماجدشاہ عین احمد صاحب سے متعلق رقمطراز ہیں
”عین احمد سلمہٗ تاریخ ولادت 8 رمضان 1349ھ تحصیل علوم میں مشغول ہیں،اپنے والد مولانا محمد نظام الدین سلمہٗ اور برادرعمزاد مولانا شاہ امان اللہ اور برادر حقیقی مولوی عون احمد سلمہٗ و مولوی محبوب عالم صاحب سے درسیات پڑھ رہے ہیں اللہ جلد تکمیل کراوے،1369ھ میں اپنے والد ماجد کی معیت میں حج و زیارت روضہئ انورسے متمتع ہوئے“ (اعیان وطن،ص106)
حضرت شاہ ہلال احمدصاحب کی ذات نے خانقاہی انداز واطوار کو شہرت دی،خانقاہی ماحول کے ساتھ مدرسہ و افتا کے وقار میں کبھی کمی محسوس نہیں ہونے دیاجہاں آپ ایک معتبر عالم دین،فاضل متین اور صوفی صافی بزرگ کی حیثیت رکھتے ہیں وہیں دوسری طرف سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہاکرتے اور دوسری تنظیم و تحریک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے نیز حوصلہ افزائی کرتے تھے وہ تعلقات نبھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھاتے تھے،ہر چھوٹے بڑے سے ملاکرتے تھ اور اپنے عمدہ اخلاق کی وجہ سے بہت جلد ان کے قریب ہوجایاکرتے،اپنے علم وعمل،تقویٰ وپرہیزگاری،عاجزی و انکساری میں اپنے اسلاف کے پیروکار تھے ان کی روایتوں کے امین تھے، ان کی نگاہ اپنے اسلاف کو دیکھاکرتی تھی، انہوں نے کئی بزرگوں کا دو ر دیکھاتھا اور ان کی صحبت بھی اٹھائی تھی۔

وہ ایک زندہ دل انسان تھے،متنوع اوصاف و کمالات کے مالک تھے،ان کا مطالعہ بڑاوسیع تھا،اپنا علم وعمل سے بہتوں کو فیض پہنچایا،وہ بظاہر فرد واحد تھے لیکن در حقیقت ان کی ذات خودایک انجمن تھی جن کے سینے میں انیک دلوں کی دھڑکنیں،ہاتھ میں بہت سے کام کرنے والوں کی قوت، دماغ میں سینکڑوں ذہنوں کی صلاحیت اور عمل میں بہت سے نیک انسانوں کی خوبیاں موجود تھیں جن سے ایک انسان کے اندر مصمم عزم و ارادہ،قوت ادراک ویقین اور خود اعتمادی پیداہوتی ہے وہ ملت کے درد منداور پُرانی قدروں کے امین تھے،مولانا شاہ ہلال احمد خوداپنے بارے میں فرماتے ہیں
”پہلی بارعاجز نے تصنیف و تالیف کے میدان میں قدم رکھا ہے اس کواپنی زندگی کی وہ حسین و مبارک ساعتیں یاد آرہی ہیں جو وقت کے ایک ولی کامل کی آغوش محبت اور سایہئ عاطفت میں گذری تھیں،اس عہد رفتہ کی یادآرہی ہے جب یہ عاجز شفقت پدری سے ہمیشہ کے لئے محروم ہواتومشیت الٰہی نے اپنی رحمت سے اس کی پرورش و پرداخت کے لئے بہترین آغوش منتخب کی، یعنی یہ عاجز اپنے جدامجد اماالاتقیاء حضرت مولانا سیدشاہ نظام الدین قادری قدس سرہٗ کے زیرسایہ پل کر جوان ہوا،بچپن سے جوانی تک ان کی شفقت و توجہ کامرکز رہا،انہوں نے اس کی اُن تمام محرومیوں اور نارسائیوں کے ازالہ کی پوری کوشش فرمائی جو ان کے نہ ہونے سے شاید اس کا مقدرہوتیں،ان کی غیر معمولی محبت و شفقت نے اس کو اپنی زندگی کے اس عظیم خلاء (یتیمی)کاکبھی احساس نہ ہونے دیا،آج راقم الحروف کو جوکچھ حاصل ہے وہ انہی کا فیض ہے، علمی وتصنیفی میدان میں راقم کی ہرکامیابی ان کی یاد دلاتی رہے گی کیوں کہ اس کی ذات کی تعمیران ہی کی مرہون منت ہے“
(سوانح حضرت شاہ امان اللہ قادری،ص14)
آپ حلقہ علم وادب اور اربابِ فکرو دانش کے مابین ایک نمایاں شناخت رکھتے تھے، بزرگو ں کی روایات اور خانقاہی نظام کے امین و پاسبان بن کر تاحیات تدریسی خدمات انجام دیتے رہے،ان کے جانے کا غم یقینا بہت بڑا ہے جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی اہلِ خانہ،وابستگان ِ سلسلہ اور علمی و ادبی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑگئی اور کیوں نہ دوڑے آج کے اس مادیت زدہ دور میں ان جیسی شخصیت کسی نعمت سے کم نہیں تھی،ان کے قلم سے مختلف موضوعات پر علمی شہ پارے وجود میں آئے ہیں،درجنوں مقالے اور مضامین اہم موضوعات پر شائع ہوتے رہے۔
ابتدائی عہد سے تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا اور اب تک یہ سلسلہ جاری تھا جن کا احصاء اس مختصر تحریر میں دشوار ہے،ان کا قلم فقہ و حدیث کے موضوع پر بھی چلا کرتا تھا لیکن بزرگان دین کے احوال ومقامات رقم کرنے میں انہیں خاص مہارت تھی،خانقاہ مجیبیہ کے مفصل حالات بھی آپ ہی نے تحریر فرمائے ہیں،سہ ماہی ’المجیب‘میں کثرت سے ان کے مضامین شائع و ذائع ہوتے ر

ہے،چند مشہور تصانیف یہ ہیں۔
(1)سوانح حضرت مولانا شاہ امان اللہ قادری
(2)سیرتِ پیرمجیب(بانی خانقاہ مجیبیہ)
(3)خانوادہ حضرت سیدہ زینب
(4)القول السیدید
(5)یزید حقیقت کے آئینہ میں
(6)نغمات الانس فی مجالس القدس (مرتب)

خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ،داناپور کے سرپرست اور بزر گ شخصیت حضرت شاہ خالدامام ابوالعُلائی مدظلہٗ فرماتے ہیں کہ
”وہ ایک دلچسپ،خوش مزاج اور مہمان نواز تھے،ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں لطیف،سنجیدہ اور بامعنیٰ مزاج کارفرماں ہوتا،ان کی تمام خوبیوں کا احاطہ کرنا ناشادکے بس کی بات نہیں ہے،انہیں کبھی اس کا خیال نہیں رہاکہ لوگ کیاکہیں گے ہر حال میں مست اورملت اسلامیہ کے کاموں میں ہر وقت تیارکھڑے رہتے،انہیں اپنے ماضی سے عشق تھا،ابتدائی عہد سے میں ان سے واقف ہوں وہ سبھی کے دوست تھے،چاہے کوئی مریض ہوکہ مولانا،عام انسان ہوکہ بڑا حاکم روحانی تعلیمات کا خوگر ہوکہ دینی تعلیم کا واقف کار،علم دوست ہوکہ ادب دوست کسی کویہ محسوس نہیں ہوتا کہ آپ ان سے کسی سے کم پیار یاشفقت کابرتاؤکرتے ہیں“
آپ کا یوں رخصت ہوجانا کسی ایک شعبے کی کڑی کا ٹوٹ جانانہیں ہے بلکہ کئی کڑیوں کا ٹوٹ کربکھر جانا ہے وہ ایک طرف حکمت کی قدیم اور مضبوط کڑیوں کی سلسلے کی مضبوط ترین کھڑی تھے تو دوسری طرف روحانیت اور خانقاہیت کے سلسلے میں بھی عمدہ ترین اور مضبوط کڑی تھے،اس پر بس نہیں ہے وہ دینی علوم کے حصول اور اس کو عام کرنے کے سچے جذبے کی حامل، نظامی طریقہ تدریس کی بھی بہت معنیٰ خیز کڑی تھی۔
خد کو یاد کراکبرؔ سحر قریب ہے اب نہیں ہے عمر کا کچھ اعتبار اُٹھ کر بیٹھ
(حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری)
حضرت ڈاکٹر سیدشاہ تقی الدین حسین فردوسی منیری مدظلہٗ فرماتے ہیں
”حضرت مولانا سیدشاہ ہلال احمد قادری مجیبی رحمۃ اللہ علیہ سے میری پہلی ملاقات ڈاکٹراحمدعبدالحئی کی مسجد میں ہوئی تھی،تاریخ 10محرم الحرام دن اتوار کا تھا جس طرح اس سال 2020ء میں عاشورہ کا دن اتوار رہا،میراوہاں درس قرآن تھا اور ڈاکٹر احمد عبدالحئی پر صاحب کی دعوت پر حضرت مولانا شاہ ہلال احمد قادری بھی تشریف لائے تھے درس قرآن کے بعد انہوں نے ذکر حضرت اما م حسین علیہ السلام کیا ایسا پُراثر بیان تھا جسے سن کر میری عجیب کیفیت ہوگئی اور جب میں گھر آیا تو شدید گرمی تھی اور میں اس کی وجہ سے سو نہیں سکا وہاں کیفیت عجیب ہوگئی تھی اس لئے برجستہ یہ اشعار میں نذرانہئ عقیدت کے طور پر حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کئے، ملاحظہ ہو
عزیمت حسین یعنی مدح شاہِ کربلا بیاں کر ے ہے کوبکوبیاں کرے ہے برملا
بفضل رب زوالمنن بہ فیض نام پنجتن عطا ہوا تقیؔ کوہے بیان و گفتگو کا فن یہ شکر کا مقام ہے
اس پہلی ملاقات کے بعد پھر میری ان کی ملاقاتیں اکثر ہواکرتی تھیں جب میں جزیرۃ العرب سے چھٹیاں گذارنے گھر آتا تھاتو انہیں ملاقاتوں میں وہ ملاقات بھی تھی جو خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ،شاہ ٹولی،داناپورمیں ہوئی تھی،یہ ملاقات حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری قدس سرہٗ کی صد سالہ تقریب عرس میں ہوئی تھی،حضرت مولانا بھی تشریف لائے تھے اور میں بھی حاضرہواتھادیگر مشائخ عظام اور علمائے کرام بھی اس محفل میں موجودتھے،حضرت مولانا شاہ ہلال احمد صاحب نے حضرت شاہ اکبر داناپوری قدس سرہٗ کے وحدت الوجود کولے کر اپنا مقالہ سیمینارمیں پڑھا تھا اس وقت سے حضرت اکبرؔ داناپوری کا یہ شعر میرے دل میں موجزن ہوگیا
عجیب صنعت کا ہے یہ پُتلااُٹھادوں پردہ دکھادوں جلوہ
ادب اجازت اگر مجھے دے تو کہہ دوں کون آدمی بنا ہے

یہ کلام حضرت اکبرؔ داناپوری کا اس وقت سُنا تھا جب حضرت والد ماجد سیدشاہ عنایت اللہ فردوسی،حضرت عمی المحترم سیدشاہ مراد اللہ فردوسی اور برادر محترم حضرت سیدشاہ نورالدین فردوسی کے ہمراہ درگاہ حضرت شاہ ارزاں قدس سرہٗ (پٹنہ)کے عرس میں تھا توشرف یاب ہوا تھا،اس دوران حضرت شاہ ہلال صاحب سے اس وقت بھی سیمینار میں بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی اورانہوں نے فرمایاکہ شاہ صاحب!بہار کو آپ کی ضرورت ہے ان کایہ جملہ مجھے پسند آیا کیوں کہ یہ جملہ میری والدہ کے حکم کی تفسیر تھی اس طرح شاہ صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں وہ ہم سے قریب ہوئے ہم ان سے قریب ہوئے، ابھی کچھ سال قبل خانقاہ مجیبیہ میں ذکر شہادت کے عنوان سے ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا جس کا مصرع طرح یہ تھا ’خون سے لکھی گئی ہے داستانِ کربلا‘جس پر راقم نے بھی حضرت شاہ صاحب کی خواہش پر چند اشعار کہے تھے ملاحظہ ہو
ثیم و ذر سے قیمتی سبطِ نبی کاہے لہو رقم جس سے کی گئی ہے داستانِ کربلا
خواہش شاہ ہلال قادری ہے اے تقیؔ ہوں شریک محفلِ ذکر و بیان کربلا
آپ کے فرزند ارجمند حضرت شاہ بھجت حسین سلمہٗ سے خبر ملی تو گہرے رنج و غم کا اظہار ہوا،اللہ پاک حضرت کے درجات کو بلند فرمائے اورلواحقین کو صبر جمیل عطا کر“
وہ بزرگوں اور خانقاہوں کے تربیت یافتہ اور صحبت یافتہ تھے،اس لئے ان کے ظاہر وباطن میں کوئی تضاد نہیں تھا،ان کاظاہر ان کے باطن کا آئینہ تھا۔
حضرت حاجی سیدشاہ سیف اللہ ابوالعُلائی(سجادہ نشین: خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ،داناپور)نے فرمایاکہ
”ان کے سانحہئ ارتحال کی خبر سے انتہائی صدمہ ہوا ان کی عنایات اور کرم فرمائیاں یاد آگئیں،یقینایہ صدمہ اہل بہار ہی نہیں ملت اسلامیہ کا ہے،یہ صدمہ ہمارا ہے،خاندان سوگوار ہے اور غمگین ماحول ہے،ان کی وفات حسرتِ آیات سے ایک شفیق بزرگ سے ہم لوگ محروم ہوگئے،واقعی وہ ایک عظیم انسان تھے،ان کی رحلت سے قوم وملت کا بڑاخسارہ ہواہے، انتہائی سادہ مزاج،کم گفتار،عالی وقار اور ماہر علم وفن و یگانہئ عصرتھے،وہ ہر ایک سے بلا تکلف ملتے تھے اور خیریت دریافت کرتے تھے،انہیں مجھ سے بڑی محبت تھی،میرے داداحضرت شاہ اکبر داناپوری کے اشعار انہیں خوب یاد تھے ’جو بنے آئینہ وہ تیرا تماشا دیکھے‘اس غزل پر ان کو کیفیت بھی آئی ہے،ایسی ہستی باربار زمانے میں پیدانہیں ہوتی،وہ قابل رشک انسان تھے دینی معاملات ہو یا دنیاوی معلومات ہر ایک پر مضبوط گرفت رکھتے تھے“
حضرت ڈاکٹر سیدشاہ شمیم احمد گوہرؔ (سجادہ نشین:خانقاہ حلیمیہ ابوالعُلائیہ،الہ آباد)رقمطراز ہیں کہ
”حضرت مولانا شاہ ہلال احمد قادری دارفانی کو خیرباد کہ کر نہ صرف بزم خانقاہ بلکہ تمام حلقہ سنیت کو غم ذدہ کردیا،حضرت کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے قلم سکتے میں ہے، جید عالمِ دین،عاشق رسول اور پیکر تصوف و تفقہ کی جدائی ہر خدمت دینی کا چراغ محفل مدہم ہوگیا،ان کی تمام تصانیف،تحقیقات و توضیحات کی یادگاریں ہیں وہ زبان وقلم کے عظیم مجاہداور ’موت العالِم موت العالَم‘کے سچے مصداق تھے،انسانیت نوازی اور بذلہ سنجی کے خوشگوار سرمایہ نے اپنے خیرخواہوں اور عوام الناس کو ہمیشہ متاثر کیا،اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں حضرت شاہ صاحب کی دینی خدمات اور بے شمار نیکیوں کا بہترین صلہ عطا فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے،آمین“۔
اللہ پاک سے دعاہے کہ حضرت کے درجات بلند فرمائے اورمتعلقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔
خدا کی حضوری میں دل جارہاہے یہ مرنا ہے اس کا مزا آرہاہے
تڑپنے لگیں عاشقوں کی جو روحیں یہ کیا نغمہ روح الامیں گارہاہے
عدم کا مسافر بتانا نہیں کچھ کہاں سے یہ آیا کہاں جارہاہے
(حضرت شاہ اکبر ؔ داناپوری)

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: تذکرہ حضرت مولانا سیدشاہ ہلال احمد قادری مجیبی
تذکرہ حضرت مولانا سیدشاہ ہلال احمد قادری مجیبی
https://1.bp.blogspot.com/-_w8JqZhi2-I/X0-cQf632KI/AAAAAAAAjvY/74k38CgXwp0G60CGjvqTxVQhX2PiTZhiACLcBGAsYHQ/s640/FB_IMG_1598882495746.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-_w8JqZhi2-I/X0-cQf632KI/AAAAAAAAjvY/74k38CgXwp0G60CGjvqTxVQhX2PiTZhiACLcBGAsYHQ/s72-c/FB_IMG_1598882495746.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/09/blog-post_19.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/09/blog-post_19.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy