ذکرخیرحضرت شاہ احمد حسین چشتی شیخ پوروی

               (پیدائش1855ء ……وفات1923ء)       شاہ ریَّان ابوالعُلائی                                       خَانقَاہ سجَّادِیہ اَ...

               (پیدائش1855ء ……وفات1923ء)

      شاہ ریَّان ابوالعُلائی

                                      خَانقَاہ سجَّادِیہ اَبُوالعُلَاءِیہ

                                               شاہ ٹولی،داناپور

            7301242285 


شیخ پورہ خرد چشتیوں کی قدیم آماجگاہ ہے مگر یہاں قادری،سہروردی اور ابوالعُلائی بزرگ بھی آرام فرماہیں،تذکرے اور تاریخ کے حوالے سے یہ جگہ حضرت تاج محمود حقانی قدس اللہ سرہٗ(تاریخ وصال14 جمادی الاخر)سے عبارت ہے۔

نویں صدی ہجری میں حضرت خواجہ سید عبداللہ چشتی قدس سرہٗبھکر(پنجاب،پاکستان) سے بغرض رشدو ہدایت شیخ پورہ خرد میں قیام فرمایا تھا،کہاجاتا ہے کہ آپ حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی قدس سرہٗکی اولاد میں ہیں، آپ کا سلسلہئ نسب اس طرح ہے۔

خواجہ سید عبداللہ ابن خواجہ سید اسد اللہ ابن خواجہ برہان الدین ابن خواجہ عبدالرحمن ابن خواجہ محمد جان ابن خواجہ سمعان ثانی ابن خواجہ منصور ابن خواجہ قطب الدین چشتی مودودی ابن خواجہ ناصرالدین ابویوسف ابن خواجہ محمد سمعان ابن خواجہ ابوجعفرابراہیم ابن خواجہ ابو عبداللہ محمد ابن خواجہ ابو محمد ابن خواجہ عبداللہ علی اکبر ابن خواجہ حسن اصغر ابن سید نقی ابن محمد تقی ابن امام علی رضا ابن امام موسیٰ کاظم ابن امام جعفر صادق ابن امام محمد باقر ابن امام زین العابدین ابن امام حسین ابن علی مرتضیٰ۔ (مخزن الانساب،ص55)

حضرت خواجہ عبداللہ چشتی کو بیعت و خلافت اپنے والد خواجہ اسداللہ چشتی سے حاصل تھی اور انہیں حضرت راجا بن تقی چشتی سے اور انہیں حضرت شیخ پیارہ سے اور انہیں حضرت سید محمد گیسو دراز بندہ نواز سے حاصل تھی۔        (بیاض شاہ سجاد جعفری بہاری،ص 275)

صوبہئ بہار میں یہ خانوادہ سلسلہئ طریقت کے ساتھ ساتھ آل واولاد میں ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔

مجھ سابھی صحیح النسب اکبرؔکوئی کیاکم ہے

سلسلہ اپنا کسی زلف سے جاملتا ہے 

(حضرت شاہ اکبرؔداناپوری


)

خواجہ عبداللہ چشتیقدس سرہٗکے بعد خانوادہ ئمودودیہ کو حضرت تاج محمود حقانیقدس سرہٗسے خوب شہرت و عظمت ملی،دور دور تک رشد وہدایت کا سلسلہ جاری ہوا، اللہ والوں کا پلہ بھاری ہوا، بے دینوں کا منہ کالا ہوا، اس طرح خانوادہئ مودودیہ اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہا۔ 
خانقاہ چشتیہ مودودیہ،شیخ پورہ خُرد بہار کی ان معتبر چشتی خانقاہوں میں سے ایک ہے جس نے تربیت وتذکیہئ نفس کے ساتھ خدمت خلق کا جذبہ اور ولولہ پیداکیا۔
اس خانقاہ میں یکے بعد دیگرے کئی مقدس ہستیاں سجادہ پر جلوس افروز ہوئیں مگر ان میں حضرت سیدشاہ احمد ؔحسین چشتیقدس سرہٗ کا نام نمایاں طور پر شامل ہے جنہوں نے خانقاہ چشتیہ مودودیہ کی نشاۃ ثانیہ کا کارنامہ انجام دیاہے،دولت و ثروت،رسوخ و نفوذ،شاہی فرامین اور سجادہ نشینی توپہلے سے چلی آرہی تھی لیکن اس کے ساتھ علم و دانش،عقل وفہم اور رشد وہدایت حضرت شاہ احمد حسین چشتی کا خاصہ رہا،آپ ہی کے ذریعہ سے خانقاہ چشتیہ مودودیہ کی تاریخ،مریدان و معتقدا ن، مسترشدان اور قلمی بیاض و سفینہ جات کے ساتھ افعال و اقوال نیز تذکرہ ئسجادگان ذیشان و نسب نامہ والاشان کا خاکہ بھی ظاہر ہوا۔ (روح سخن،ص13)
حضرت شاہ احمدؔحسین چشتی 1272ھ میں پیدا ہوئے اور 14ربیع الاول 1341ھ میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے اس درمیان آپ نے مختلف کارنامے انجام دیئے۔
آپ سادات حسینی ہیں،سلسلہ نسب پدری حضرت خواجہ عبداللہ چشتی سے اس طرح ملتاہے۔
احمد حسین ابن شجاعت حسین ابن فخرالدین حسین ابن رحمان حسین ابن خواجہ ملیح ابن خواجہ فصیح ابن خواجہ عنایت اللہ ابن خواجہ تاج الدین محمود حقانی ابن خواجہ قطب الدین ثانی ابن خواجہ عبداللہ چشتی۔ (مخزن الانساب،ص56)
آپ کا ذکر خیر حضرت شاہ حسین الدین احمد منعمی(متوفیٰ 1358ھ) نے کیفیت العارفین کے ضمیمہ میں تحریر فرمایا ہے، مکمل عبارت بجنسہٰ یہاں درج کی جاتی ہے۔
”آپ بچپن سے اپنے خالو حضرت سیدشاہ عطاحسین قدس سرہٗکے یہاں پرورش پائی اور رہے چوں کہ آپ کے والد ماجد سیدشجاعت حسین ابن سید شاہ فخرالدین حسین کو اپنے والد ماجد سے بیعت کا اتفاق نہ ہوا تھااور حضرت سیدشاہ عطاحسینقدس سرہٗ کو آپ کے آبائی سلسلہ کی اجازت آپ کے والد سے تھی،اس لئے انہیں سے مرید ہوئے اور اپنے لڑکے سیدشاہ احمد حسین کو کم سنی میں آپ کے سپرد کردیا، آپ نے علم ظاہری کی تحصیل حضرت مولوی سیدشاہ ظہورالدین حسین سے کی بعد حصول علم ظاہر اپنے خالو حضرت سیدشاہ عطاحسین قدس سرہٗ سے مرید ہوئے اور اپنے آبائی سلسلہ ونیز منعمیہ سلاسل کی اجازت و ماذون ہوکر خلافت سے بھی سرفراز ہوئے،حضرت ہی کے زمانہ میں اپنے آبائی سلسلہ کی سجادگی پر متمکن ہوئے اور فیض بخشی کرنے لگے آپ کے فیض کا عام چرچا ہوا خصوصاً ضلع ہزاری باغ میں ایک خلقت آپ کے حلقہ بگوش ہوکر آپ سے مرید ہوئی، آپ کے دوصاحبزادہ سیدشاہ سلطان احمد و سیدشاہ محمد قاسم ہیں، اپنے والد کے انتقال کے وقت دونوں کم سن تھے، اس لئے اون سے بیعت کا تفاق نہیں ہوا، بدیں وجہ دونوں صاحبزادہ پھلواری شریف میں فیاض العالمین حضرت سیدشاہ بدرالدین رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین خانقاہ مجیبیہ سے مرید ہوئے“ (ضمیمہ کیفیت العارفین،ص 19)
آپ اپنے والد حضرت شاہ شجاعت حسین (متوفیٰ1308ھ)کے حکم پر حضرت شاہ عطا حسین فانیؔ (متوفیٰ1311ھ)سے سلسلہئ چشتیہ منعمیہ میں میں بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے انہیں جملہ اوراد ووظائف مثلاً دلائل الخیراتحزب البحراور سورہ مزمل بامؤکل بروایت مخدوم حسن علی منعمی کی اجازت بھی پہونچی اس کے علاوہ حضرت شاہ اکبر ؔ داناپوری(متوفیٰ1327ھ) سے چند اعمال و وظائف کی اجازت بھی ملی۔
آپ جید عالم دین،شریں خطیب اور پُرکشش لب ولہجے کے مالک تھے،بیشتر کرامات کا ظہور بھی آپ کی ذات سے ہوتارہا،حلقہئ مریدین و معتقدین بھی کافی ووافی تھا،بعض حضرات کو آپ سے اجازت وخلافت بھی ملی ہے اور وہ یہ ہیں 
(1)حضرت سیدشاہ سبحان احمد چشتی(صاحبزادہ اکبر)
(2)حضرت سیدشاہ سلطان احمد چشتی (صاحبزادے و جانشین)
(3)حضرت سیدشاہ قاسم احمد چشتی(صاحبزادہ اصغر)
(4)حضرت سیدشاہ حسین الدین احمدمنعمی (رام ساگر،گیا)
(5)حضرت سیدشاہ شمس الضحیٰ چشتی(رجہت،نوادہ)
آپ کا انتقال 14ربیع الاول 1341ھ میں تقریباً ستر سال کی عمر میں ہوا، سید اسیر الدین احمد اسیرؔ بازید پوری نے قطعہ تاریخ رحلت لکھی ہے اور وہ یہ ہے۔
شاہ احمد حسین نیک صفات زیں جہاں رفت سوئے رب جلیل
سال رحلت اسیرؔ ہافت گفت ”قدوۃ العارفین شاہ جمیل 
1341ھ
حضرت شاہ احمد حسین چشتی عالم دین،فاضل متین اور صاحب یقین بزرگ ہیں، ان کی طبیعت پر شعر وشاعری کا اثر خوب تھا،
ع ”دل بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے“
پرعمل پیرا ہوتے ہوئے مختلف اصناف سخن پر طبع آزمائی کرنے لگے،غزل،رباعی،قصیدہ،قطعہ،مناجات اور نعت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالیں آپ سے روشن ہیں۔
آپ کے اشعار واردات قلبی کے ترجمان ہیں،اشعار میں فکر کی نازگی،خیالات کی پاکیزگی عیاں ہے،شاعری کے لئے تشبیہ و استعارہ کی اہمیت بھی ان پر واضح تھی اچھی تشبیہیں استعمال کرتے تھے مگر اس فن میں زیادہ دلچسپی بھی نہ لی اور یہ سلسلہ کسی موڑ پر تھم سا گیا۔
چند اشعار نمونہ کے طور پر پیش خدمت ہے۔
مناجات
یاالٰہی نیک رستہ پر چلا کرہمارا دین و دنیا میں بھلا
دین احمد پر مجھے رکنا مقیم توبتاہم کو صراط مستقیم
وقت مرنے کے مجھے لیا بچا اے مرے مالک برائے انبیا
اور عذاب قبر سے مجھ کو بچا اے مرے خالق برائے اولیا
اور مصنف اس کا احمدؔ اے خدا بخش اس کو تو برج مصطفےٰ
قصیدہ
جمال دِلرُبا اپنا دیکھا دو یارسول اللہ براہ لطف کچھ مژدہ سنادو یارسول اللہ
کریں جس دم سوال آکر فرشتہ قبر میں مرے زباں میری نہ ہوخاموش اس دم یارسول اللہ 
خدایااک نظر مجھ کو دیکھا تو مدینہ کو میں بھولا ہوں مجھے رستہ بتادو یارسول اللہ 
نہیں جُز آپ کے کوئی ہمارا روزمحشر میں گناہیں اب خداسے بخشوادو یارسول اللہ 
بہت کی فکر اے احمدؔوے کیا فائدہ دیکھا کہیں اس کو وسیلہ سے لگادو یارسول اللہ 
نہیں اُٹھیے گا غم میرے جگر سے روز محشر تک طفیل پنجتن اس کو مٹادو یارسول اللہ 
کہاں مجھکو توقع ہے کہ بخشے جائیں گے ہم بھی حشر کہ صدمہ سے مجھکو بچا لو یارسول اللہ 
قطعہ
میں ڈوبا ہوں محبت میں تمہارے یارسول اللہ میری حالت نہیں تم سے چھپی ہے یارسول اللہ 
میں صابر اور شاکر اور صادق ہوں محبت میں تمہارے یارسول اللہ 
میں بہت حیراں ہوں آلودگی سے اپنے بھروسا ہے مجھے ہردم تمہارا یارسول اللہ 
نہیں ڈر ہے نکیر اور منکر کا جو ڈر ہے تو ہے تمہارا یارسول اللہ 
بقیہ کلام ”کلام احمدی“میں موجود ہے۔
ایک صوفی کے لئے شاعری وقت کو گزارنے کا ایک ذریعہ ہے جو اس کے خیالات اور افکار ونظریات کی ترجمانی کرتا ہے،اس کے دل میں لگی ہوئی آگ کو گلنار بنانے کا کام اسی فن کا ہے۔
الغرض احمدؔ شیخ پوروی اپنے عہدمیں نالندہ کے معروف شعرا سے اگر آگے نہیں جاتے تو بہت پیچھے بھی نہیں ہیں یہ اور بات ہے کہ ع ”خدا کی دَین ہے انساں کا مشہور ہونا“
(شادؔعظیم آبادی)
شعر وسخن کی طرح آپ کو تصنیف و تالیف سے بھی گہرہ شوق تھاآپ کے متعدد رسالے ہیں جو غیر مطبوعہ ہے،ان رسائل میں یادگار احمدی، کلام احمدی،مجربات احمدی، قوانین نقشیات،گنجینہئ ادعیات احمدی وغیرہ قابل ذکر

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: ذکرخیرحضرت شاہ احمد حسین چشتی شیخ پوروی
ذکرخیرحضرت شاہ احمد حسین چشتی شیخ پوروی
https://1.bp.blogspot.com/-Az2zGS3GmQw/X3QBMix43dI/AAAAAAAAknA/y2w0uuAt2bsQMZBLvUY3rj0lAteHBeHGACLcBGAsYHQ/s320/Raiyan%2BAbulolai%2BProfile.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-Az2zGS3GmQw/X3QBMix43dI/AAAAAAAAknA/y2w0uuAt2bsQMZBLvUY3rj0lAteHBeHGACLcBGAsYHQ/s72-c/Raiyan%2BAbulolai%2BProfile.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/09/blog-post_47.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/09/blog-post_47.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy