حضرت مولانامحمد رفیق قاسمی کا انتقال ایک عظیم سانحہ - لیفٹیننٹ کمانڈر خورشید انور بیگ

جب مجھے یہ خبر ملی  کہ می رے استاد محترم حضرت مولانا محمد رفیق قاسمی قاضی شہر شیر کوٹ ضلع بجنور، امام جامع مسجد اور مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربی...


جب مجھے یہ خبر ملی  کہ می

رے استاد محترم حضرت مولانا محمد رفیق قاسمی قاضی شہر شیر کوٹ ضلع بجنور، امام جامع مسجد اور مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربیہ شیرکوٹ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے تو فوراً شیخ سعدی شیرازی کے لکھے ہوئے یہ اشعار میرے کانوں میں اس طرح گونجنے لگے جس طرح مولانا نے مجھے  خود پڑھاے تھے

جهاں اے برادر نماند بکس
دل اندر جهاں آفريں بند و بس
مکن تکيه بر ملک دنيا و پشت
که بسيار کس چون تو پرورد و کشت
چو آهنگ رفتن کند جان پاک
چه بر تخت مردن چه بر روي خاک

دل سے آواز آئی کہ مولانا کی عظیم شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کرنا اور لوگوں تک پہنچانا ہی میری سچی خراج عقیدت ہوگی

مولانا کی سادہ زندگی ہمارے اسلاف کا نمونہ تھی۔ یو ں توکُل نفسٍ ذائقۃ الموت کے تحت ہر شخص کو موت آنی ہے، مگر بعض شخصیات کے انتقال سے جو 
خلا پیدا ہوتا ہے وہ بہت مشکل ہی سے پُر ہوتا ہے
مجھے تقریبا چار برس مولانا کی خدمت میں رہنے اور علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا بنیادی طور پر تو میں ایک اسکول کا طالب علم تھا لیکن جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتا آپ کی صحبت کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے اردو زبان کی مختلف کتابیں، حمد باری،  عربی زبان کی منہاج العربیہ، فارسی کی کتابیں  با لخصوص گلستاں سعدی وغیرہ مکمل کیں اور علم دین سے آراستہ ہو سکا   علاوہ از ایں مولانا نے مجھے اردو رسم الخط، عربی رسم الخط   اور خطاطی بھی سکھائی آپ کے  پڑھانے کا انداز ہی نرالا تھا طالب علموں کو سمجھانے کے لیے  آسان اور سبق آموز حکایات سناتے، کہاوتوں اور  بزرگوں کے اقوال اور مثال کے ذریعے سبق کو آسان بنا دیا کرتے تھے۔ 

مولانا کی خوبیوں کو بیان کرنا  میرے لیے مشکل ہی نہیں  بلکہ  ناممکن ہے آپ کے چہرے کی بشاشت اور طبیعت کی لطافت قابل دید تھی اکثر آپ کی طبعی کمزوری دیکھ کر یقین نہیں ہوتا تھا، یقیناً یہ  آپ کی بلند ہمتی کی علامت تھی۔ مولانا کی وفات باشندگان شیرکوٹ اور قرب و جوار  کے لیے ایک عظیم علمی اور روحانی خسارہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت  آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور حضرت مولانا کے اہل خانہ ودیگر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 

مولانا کی زندگی کو مجھے بہت ہی قریب سے دیکھنے اور ان کی عظیم شخصیت کو جاننے کا موقع ملا آپ غالباً سن 1970 میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوکر أوّلاً دھام پور اور بعد میں قصبہ شیرکوٹ ضلع بجنور  تشریف لائے اور تب سے لیکر آخری دم تک چنا نچہ 1970 سے 2020 تک یعنی نصف صدی کی طویل مدت تک بطور قاضی شہر شیر کوٹ، دور شیر شاہ سوری کی قدیم  اور تاریخی  جامع مسجد کے امام، مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربیہ شیرکوٹ میں نمایاں اور غیر معمولی خدمات انجام دیتے رہے۔ مولانا کا وجود  شیرکوٹ اور اس کے اطراف و جوانب کے لئے ایک ایسے سایہ دار درخت کا سا تھا جس کی چھاؤں میں ھر شخص سکون محسوس کرتا تھا ، مولانا نے اپنے ابتدائی زمانے میں سرد و گرم حالات کا دیوانہ وار مقابلہ کرتے ھوئے  دین کے حوالےسے جو غیر معمولی خدمات انجام دیں ان کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا

 جمعہ کے روز نماز سے قبل ایک مختصر سی تقریر کرتے  حکایات صحابہ،  عربی  و فارسی کے اشعار اور اقوال، بزرگان دین کے واقعات کے ذریع بہت ہی پر اثر انداز میں اپنی بات نماز یوں تک پہنچاتے تھے وقت کی پابندی اور لوگوں کی مصروفیات زندگی کا خاص خیال رکھتے تھے اس لیے کبھی بھی وعظ یا نماز کو طويل نہیں کرتے تھے۔

جب بھی میں چھٹیوں میں شیرکوٹ آتا تو مولانا کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا آپ یا تو جامع مسجد میں اپنےحجرے میں عبادت میں مشغول ہوتے  یا گھر پر تشریف فرما  ہوتے مولانا عالم دین با عمل ہونے کے ساتھ ساتھ گو ناں گو  صفات کے حامل تھے دنیاوی عیش و آرام، زیب و  زینت سے بالاتر ہو کر شہرت اور مادہ پرستی سے پرے انتہائی سادگی، کفایت شعاری، خودداری  کی زندگی بسر کرتے تھے  انتہائی متقی پرہیز گار گویا کہ اللہ کے ولی تھے۔حضرت مولانا کی رحلت کی خبر نے طبیعت کو حد درجہ مغموم اور متاثر کیا ھے ، رہ رہ کر ان کی شفقتیں ، عنایتیں ، محبت اور اکرام کی یاد ستا رھی ھے ، ان کا ھر دم ھنستا مسکراتا چہرہ ، وقتا فوقتا ٹیلیفون پر ھونے والی گفتگو ، ان کی اپنائیت اور مخلصانہ اظہار تعلق وہ چیزیں ھیں جن کو میں کبھی بھی بھلا نہیں سکتا

مولانا ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کہ عاجزی و انکساری اور خدمت خلق ان کی فطرت میں شامل  تھے الغرض گوناں گو صفات کے حامل شخص کی خوبیاں کہاں تک بیان کروں مولانا بستی شیر کوٹ  اور باشندگان شیر کوٹ سے بے پناہ محبت کرتے تھے ہمیشہ دعا میں شیرکوٹ اور ملک کی ترقی اور سلامتی کی دعا مانگا کرتے تھے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے سبھی کے درد کو اپنا درد سمجھتے تھے دلجوئی کرنا، لوگوں کے کام آنا، پریشان حال کو تسلی دینا ان کی عادت میں شمار تھا اور اسی لیے  آپ لوگوں کے دلوں میں بستے تھے ۔ ان کے آخری سفر میں کثیر تعداد میں لوگوں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے۔

مولانا سال میں دو مرتبہ  عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر عید گاہ شیر کوٹ میں  نماز پڑھایا کرتے  تھے جب خطاب کے لئے ممبر پر تشریف لاتے تو تمام عید گاہ پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو جاتی نورانی چہرہ، بلند آواز،   انداز بیاں مختلف، مولانا کی سہل ممتنع تقریر لوگوں کے دلوں کو چھو جاتی مولانا کے ایک جھلک دیدا ر کے لئے لوگ اچک اچک کر ممبر کی طرف دیکھتے حتیٰ کہ نماز مکمل کرنے کے بعد مولانا دلکش اور مخصوص انداز میں خطبہ تلاوت فرماتے اور جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو بارگاہ الٰہی میں اس طرح روتے گڑگڑا تے کہ تمام مجمع پر رقت طاری ہو جاتی نماز ادا کرنے کے بعد گھروں کو لوٹتے وقت ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے  اللہ رب العالمین نے ہماری مغفرت کر 
دی ہو اور تمام گناہ معاف فرما دے ہوں

 7 ستمبر 2020 بروز پیر  کو تقریباً 75 برس کی عمر میں اللہ کے یہ برگزیدہ بندے ہمیں الوداع کہہ کر  اپنے مالک حقیقی سے جا ملے مولانا  کو ایسی بابرکت موت نصیب ہوئی کہ عصر کی نماز کے لیے  وضو کرتے  وقت روح پرواز کر گئی  مولانا اشرف علی تھانوی کہتے ہیں کہ جمعہ کو موت تائبین کو نصیب ہوتی ہے اور پیر کے دن موت عاشقین کو نصیب ہوتی ہے آپﷺ کا وصال مبارک بھی پیر کے دن ہوا تھا۔ مولانا کی وفات کی خبر سن  کر انتہائی افسوس اور غم ہوا آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلنے لگے اور ذاتی طور پر ان کا شاگرد ہونے کے تعلق سے مجھے بہت صدمہ پہنچا لیکن ہر حال میں اللہ جل شانہٗ  کا شکریہ ادا کرنا ہی  مؤمن کی نشانی ہےاللہ رب العزت مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے، اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے، انکے درجات کو بلند فرمائے  اور پسماندگان، اعزا و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔  

جو تیرے بعد زمانہ تجھے تلاش کرے 
کچھ  ایسے نقش سر راہ  تو بناتا  جا
 

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: حضرت مولانامحمد رفیق قاسمی کا انتقال ایک عظیم سانحہ - لیفٹیننٹ کمانڈر خورشید انور بیگ
حضرت مولانامحمد رفیق قاسمی کا انتقال ایک عظیم سانحہ - لیفٹیننٹ کمانڈر خورشید انور بیگ
https://1.bp.blogspot.com/-Gn0z3g0Z4B4/X2m2WkGNL9I/AAAAAAAAkSA/As_GnSi9fFsNjXSq8RI6KMwWuoZ5kTyoQCLcBGAsYHQ/s320/IMG-20200911-WA0019.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-Gn0z3g0Z4B4/X2m2WkGNL9I/AAAAAAAAkSA/As_GnSi9fFsNjXSq8RI6KMwWuoZ5kTyoQCLcBGAsYHQ/s72-c/IMG-20200911-WA0019.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/09/blog-post_55.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/09/blog-post_55.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy