سرسید کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے اے ایم یو تدریس و تحقیق کے اعلیٰ معیار کے باعث ترقی کے نئے منازل طے کررہی ہے: پروفیسر طارق منصور

 سرسید نے اصلاحی و تعلیمی تحریک کے ساتھ مذہبی یگانگت اور باہمی مفاہمت کو فر وغ دیا: ستیہ پال ملک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے یوم سرسید...

 سرسید نے اصلاحی و تعلیمی تحریک کے ساتھ مذہبی یگانگت اور باہمی مفاہمت کو فر




وغ دیا: ستیہ پال ملک

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے یوم سرسید تقریب کا اہتمام

علی گڑھ، ”سرسید کے ’قوم‘ کے تصور میں مذہب، ذات یا نسل کی تفریق کے بغیر سبھی شہری شامل ہیں۔ ہندوستان کے تصور کے بارے میں یہ اولین خیالات میں سے ایک ہے۔ سرسید نے ہندوستان کے لوگوں میں مذہبی یگانگت، رواداری اور باہمی مفاہمت کو فروغ دیا“۔ 

ان خیالات کا اظہار میگھالیہ کے گورنر اور سابق مرکزی وزیر مسٹر ستیہ پال ملِک نے کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے زیر اہتمام یوم سرسید تقریب سے بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ تقریب کا اہتمام ورچوئل طریقہ سے کیا گیا۔ 

مسٹر ملک نے زور دیتے ہوئے کہاکہ دانشوروں اور اسکالروں نے انیسویں صدی کے ہندوستان میں جدید اور سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے  سرسید کو جدید ہندوستان کے معماروں میں شمار کیا ہے۔ 

اے ایم یو کے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ”آپ سرسید کے خوابوں کی سچی تعبیر ہیں جو سرسید کے آئیڈیلس کے ساتھ قوم کی خدمت کررہے ہیں“۔ 

اے ایم یو کے جشن صد سالہ پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا ”اس تاریخی یونیورسٹی کا صدی سال عظیم یادگار تقریبات کا گواہ بنتا اور تعلیمی دنیا میں پورے سال شایان شان جشن منایا جاتا لیکن کووِڈ-19کی وبا نے پوری دنیا کو متاثر کر رکھا ہے۔ پھر بھی اے ایم یو نے احتیاطی اقدامات کو اپناتے ہوئے متعدد تعلیمی پروگراموں اور مذاکرات کا اہتمام کیا اور صدی سال میں اے ایم یو مختلف رینکنگ میں ممتاز ہندوستانی یونیورسٹیوں میں شامل رہی ہے“۔ 

مسٹر ستیہ پال ملک نے کہا”وبا کی وجہ سے ہم اس وقت مشکل حالات میں جی رہے ہیں لیکن یہ خوشی کی بات ہے کہ اے ایم یو اس موقع پر ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرتے ہوئے اپنی روایت کے مطابق انسانیت کی خدمت کے لئے سامنے آئی ہے اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) نے متاثرین کے علاج میں کوئی کسر نہیں باقی رکھی۔ 

جے این ایم سی کے کورونا ویریئرس کی محنت کو سراہتے ہوئے مسٹر ملک نے کہاکہ اس یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے دن رات غریب مریضوں کی طبی نگہداشت کی۔ انھوں نے کہا ”قوم کی یہ مشترکہ خواہش ہے کہ اے ایم یو جیسا تاریخی ادارہ اپنی روایت کے مطابق سائنس و ٹکنالوجی، سماجی علوم اور دیگر موضوعات میں معیاری تعلیم فراہم کرتا رہے، اور یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس نامور دانش گاہ کی بہبود و ترقی میں پورا تعاون دیں“۔

مسٹر ستیہ پال ملک نے  1989-1991 میں علی گڑھ لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کے ایّام اور اے ایم یو کورٹ کی رکنیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”اے ایم یو کے لئے میرے احترام میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا اور تبھی سے میں اس عظیم دانشگاہ کی ہر ممکن طور پر تعاون کے لئے کوشاں رہتا ہوں“۔ انھوں نے کہا ”میرے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہتی تھی کہ اے ایم یو علی گڑھ حلقہ کا سب سے بڑا افتخار ہے اور میں اس ادارے سے اپنے تعلق، اس کی کامیابی اور حصولیابیوں پر فخر محسوس کرتا ہوں“۔

مسٹر ملک نے کہا کہ علی گڑھ لوک سبھا حلقہ سے الیکشن لڑتے وقت اے ایم یو کے اساتذہ بشمول پروفیسر شہریار اور طلبہ نے ان کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ انھوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کشمیر وادی میں 2019ء کے ہنگامہ کے دوران خاطر خواہ تعاون کیا اور کشمیری طلبہ کو اے ایم یو میں ہی رکنے اور اپنے گھروں کو نہ جانے کے لئے راضی کیا۔ مسٹر ملک نے یونیورسٹی کی ترقی میں پروفیسر منصور کی کوششوں کو بھی سراہا۔ 

اے ایم یو پرو چانسلر نواب ابن سعید خاں آف چھتاری نے مہمان خصوصی کو ورچوئل طریقہ سے یادگاری نشان پیش کیا۔ 

اپنے خطبہئ استقبالیہ میں وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ سرسید ایک ایسے عظیم انقلاب کے نقیب تھے جس نے ہر شعبہئ حیات میں ہندوستانی سماج کو متاثر کیا۔ وہ ایک فعال اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک انسان تھے، ایک عمدہ مصنف تھے، جنھوں نے سماجی اصلاحات، مذہب، ثقافت، ادب و صحافت، معیشت و سیاست پر خوب لکھا۔

وائس چانسلر نے کہا ”سرسید نے سائنس اور دیگر جدید موضوعات پر اردو تراجم شائع کرنے کے لئے 1864ء میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ انھوں نے 1866 میں سائنٹفک سوسائٹی کے ترجمان ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘کی اشاعت شروع کی تاکہ لوگوں کو اپنی تعلیمی اور اصلاحی تحریک کے تئیں راغب کرسکیں“۔

یونیورسٹی کے صدی سال پر وائس چانسلر نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا”یہ ہمارے لئے فخر و مسرت کی بات ہے کہ ہم یونیورسٹی کے سو سال مکمل ہونے کا جشن منارہے ہیں اور سرسید کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے اے ایم یو اعلیٰ تدریس و تحقیق کے معیار کے باعث ترقی کے نئے منازل طے کررہی ہے اور علم کے سبھی میدانوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ سبھی باوقار قومی و بین الاقوامی رینکنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی میں اے ایم یو کو نمایاں مقام عطا کیا گیا ہے۔ پروفیسر منصور نے کہاکہ قوم کے تئیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں اے ایم یو کسی سے پیچھے نہیں اور ہر بحران میں اس نے قائدانہ کردار نبھایا ہے۔ 

پروفیسر طارق منصور نے کہا ”کووِڈ-19 کے بحرانی وقت میں اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال نے خاص طور سے مغربی اترپردیش کے غریب طبقہ کے مریضوں کو معیاری علاج اور کفایتی /مفت سہولیات فراہم کی ہیں۔ میڈیکل کالج کے مائیکرو بایولوجی لیب میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد آرٹی-پی سی آر ٹسٹ کئے گئے ہیں اور کووِڈ19کے مریضوں کے لئے علاحدہ آئیسولیشن وارڈ بنایا گیا جو آپریشن تھیئٹر، لیبر روم اور ڈائلیسس کی سہولیات سے لیس ہے اور اسپتال میں پلازما تھیریپی بھی کی جارہی ہے“۔ 

وائس چانسلر نے زور دے کر کہاکہ ہم اے ایم یو میں سرسید کے نقش قدم پر گامزن ہیں اور اے ایم یو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہم کا ایک مثالی ادارہ ہے۔ اس دانش گاہ کے دروازے سبھی کے لئے مذہب و ذات یا نسل کی تفریق کے بغیر ہمیشہ کھلے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سرسید ہندو -مسلم اتحاد کو فروغ دینے والے تھے اور ان کے خوابوں کے ہندوستان میں مذہب، ذات یا رنگ و نسل کی بنیاد پر تعصب کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ پروفیسر منصور نے مزید کہاکہ آج سرسید کی تعلیمات اتنی ہی معنویت رکھتی ہیں جتنی ان کے دور میں تھیں۔ 

گورنر ستیہ پال ملک اور وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اس موقع پر مشہور مؤرخ اور مصنفہ ڈاکٹر گیل مِنالٹ (پروفیسر ایمریٹا، شعبہئ تاریخ، یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن) اور انجمن اسلام، ممبئی کو سرسید ایکسیلنس ایوارڈ بالترتیب بین الاقوامی اور قومی زمرہ میں تفویض کئے۔ ڈاکٹر گیل مِنالٹ کو دو لاکھ روپئے اور سند توصیفی اور انجمن اسلام، ممبئی کو ایک لاکھ روپئے اور سند توصیفی سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ اے ایم یو کے شعبہئ اپلائیڈ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انعام الدین کو ’اے ایم یو ینگ ریسرچر ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ انھیں پچاس ہزار روپئے بطور ایوارڈ دئے گئے۔ 

ڈاکٹر گیل مِنالٹ نے اپنے خطاب میں ایوارڈ کو علی گڑھ تحریک سے جڑنے کا ایک موقع قرار دیتے ہوئے تاریخی تحقیق کے اپنے سفر میں بنیادی مآخذ تک رسائی پر گفتگو کی۔ انھوں نے ہندوستانی مسلم خواتین کی تعلیم، خلافت تحریک، علی برادران، فرنگی محل، مولانا آزاد، اردو کے رسائل و جرائد، علی گڑھ کے رسالہ ’خاتون‘، لاہور کے ’تہذیب النسواں‘، دہلی کے ’عصمت‘، ویمنس کالج اے ایم یو اور اس کی پرنسپل ممتاز جہاں حیدر کا خصوصی ذکر کیا جن کے بارے میں انھیں اپنی تحقیق کے دوران جاننے کا موقع ملا۔ 

انجمن اسلام کی جانب سے ایوارڈ قبول کرتے ہوئے اس کے صدر مسٹر ظہیر الاسلام قاضی نے کہاکہ انجمن اسلام کا قیام جسٹس بدرالدین طیب جی کی قیادت میں 1874 ء میں ہوا تھا۔ اس تنظیم کے تحت ابتدائی تعلیم سے لے کر پی جی سطح کے 100/ادارے اب تک قائم کئے جاچکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ انجمن اسلام سماج کے کمزور طبقات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے اپنے مشن میں سرسید علیہ الرحمہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے۔ 

اس سے قبل اے ایم یو رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس نے ایوارڈ یافتگان کے سند توصیفی کو پڑھا۔ 

اس موقع پر آل انڈیا مضمون نویسی مقابلہ میں 25/ہزار روپئے پر مشتمل اوّل انعام حاصل کرنے والے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن ایجوکیشن، سری نگر کے بی ایڈ کے طالب علم مشتاق الحق احمد سکندر،پندرہ ہزار روپئے پر مشتمل دوئم انعام حاصل کرنے والی اے ایم یو کی طالبہ بشریٰ عزیز اور دس ہزار روپئے پر مشتمل سوئم انعام حاصل کرنے والی مہاراجہ کالج، اِرناکولم، کوچی (کیرالہ) کی پی ایچ ڈی اسکالر انجنا مینن کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ 

اس مقابلہ میں حصہ لینے والے مختلف ریاستوں کے ٹاپرس جنھیں فی کس پانچ ہزار روپئے اور سرٹیفیکٹ بطور انعام دیاگیا، ان میں شروتی تیواری،نیشنل لاء یونیورسٹی (نئی دہلی)،شیخ نسرین سلطانہ، ایس آر لُتھرا انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، سورت (گجرات)،امینہ تبسم، سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (جموں و کشمیر)،اقرا شمیم، اے ایم یو ملاپورم سنٹر (کیرالہ)، مؤمن نکہت پروین شفیق احمد،محمدیہ طبیہ کالج، منصورہ، مالیگاؤں (مہاراشٹر)، گُردیپ کور،کالج آف بیسک سائنسز اینڈ ہیومینٹیز، پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی، لدھیانہ (پنجاب)، سلیمان ایم کے، شعبہئ اقتصادیات، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد (تلنگانہ)،محمد عبداللہ سرکار، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، (اترپردیش)، اور چندریل چٹوپادھیائے، شعبہئ قانون، بردوان یونیورسٹی (مغربی بنگال) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کماری ودیاوتی آنند ڈی اے وی کالج فار ویمن، کرنال کی طالبہ ساریکا اور چودھری چرن سنگھ ایگریکلچرل یونیورسٹی، حصار کے طالب علم سچن گرگ کو مشترکہ طور سے ہریانہ کا ریاستی ٹاپر اور الکریم ڈگری کالج فار ویمن، رائچور کی طالبہ عرفانہ فردوس اور یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز، بنگلورو کے طالب علم فیروز باشا کو مشترکہ طور سے کرناٹک کے ریاستی ٹاپر کا انعام دیا گیا۔

یوم سرسید آن لائن تقریب کے دوران پروفیسر وبھا شرما (شعبہئ انگریزی)، اور پروفیسر ایم شکیل احمد صمدانی (ڈین، فیکلٹی آف لاء) سمیت دو طالب علموں حیات فاطمہ (بی اے) اور قمر الاسلام (پی ایچ ڈی، عربی) نے بھی سرسید علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات اور مشن پر خطاب کیا۔ 

تقریب میں اے ایم یو کے پرو چانسلر نواب ابن سعید خاں آف چھتاری، پرو وائس چانسلر پروفیسر ظہیر الدین، خازن پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن، فائننس افسر پروفیسر ایس ایم جاوید اختر، کنٹرولر امتحانات مسٹر مجیب اللہ زبیری، پراکٹر پروفیسر ایم وسیم علی اور دیگر اہلکاروں اور معززین نے شرکت کی۔ 

پروفیسر مجاہد بیگ (ڈی ایس ڈبلیو) نے اظہار تشکر کیا۔ ڈاکٹر فائزہ عباسی اور ڈاکٹر شارق عقیل نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ 

اس سے قبل دن کی تقریبات کا آغاز اے ایم یو جامع مسجد میں نماز فجر کے بعد قرآن خوانی سے ہوا۔ اس کے بعد وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے دیگر اساتذہ و حکام کے ساتھ سرسید علیہ الرحمہ کی تربت پر چادر پوشی کی اور گلہائے عقیدت پیش کئے۔ 

وائس چانسلر نے سرسید ہاؤس میں سرسید احمد خاں پر مبنی کتب و تصاویر کی آن لائن نمائش کا افتتاح کیا، جس کا اہتمام مولانا آزاد لائبریری اور سرسید اکیڈمی نے مشترکہ طور سے کیا۔ 

اس کے بعد سہ پہر پانچ بجے اے ایم یو کے چانسلر سیدنا مفضل سیف الدین نے صدی سال کے یادگار کے طور پر تعمیر شدہ ’سینٹینری گیٹ“ کا ورچوئل طریقہ سے افتتاح کیا۔ یہ نام انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں گیٹ پر کندہ کیا گیا ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے 1920 ء میں اے ایم یو کے قیام کی صد سالہ یادگار کے طور پر یونیورسٹی کیمپس کے شمالی داخلہ گیٹ پر عظیم الشان گیٹ تعمیر کرانے کی پہل کی۔

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: سرسید کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے اے ایم یو تدریس و تحقیق کے اعلیٰ معیار کے باعث ترقی کے نئے منازل طے کررہی ہے: پروفیسر طارق منصور
سرسید کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے اے ایم یو تدریس و تحقیق کے اعلیٰ معیار کے باعث ترقی کے نئے منازل طے کررہی ہے: پروفیسر طارق منصور
https://1.bp.blogspot.com/-MZSAQHCJXtI/X4x1D4jppFI/AAAAAAAAlTw/M7nldOF60x0N5OA1APar7VMpruMzf09yQCLcBGAsYHQ/s320/AMU%2BVice%2BChancellor%2BProf%2BTariq%2BMansoor%2Band%2BSir%2BSyed%2BDay%2BChief%2BGuest%2BGovernor%2BSatya%2BPal%2BMalik.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-MZSAQHCJXtI/X4x1D4jppFI/AAAAAAAAlTw/M7nldOF60x0N5OA1APar7VMpruMzf09yQCLcBGAsYHQ/s72-c/AMU%2BVice%2BChancellor%2BProf%2BTariq%2BMansoor%2Band%2BSir%2BSyed%2BDay%2BChief%2BGuest%2BGovernor%2BSatya%2BPal%2BMalik.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2020/10/blog-post_87.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2020/10/blog-post_87.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy