طنز و مزاح کا شاعر زبیر الحسن غافل کی رحلت پر آن لائن تعزیتی اجلاس کا انعقاد

بے نام آدمی جو سر شام مر گیا٭سورج کے شہر میں وہ اندھیرا ہی کردیا نئی دہلی: گزشتہ ایک سال کے درمیان ادبی دنیا کے کئی ستارے اس دنیا کو داغ رفا...

بے نام آدمی جو سر شام مر گیا٭سورج کے شہر میں وہ اندھیرا ہی کردیا

نئی دہلی: گزشتہ ایک سال کے درمیان ادبی دنیا کے کئی ستارے اس دنیا کو داغ رفاقت دے گئے، خاص طور سے اردو ادب کو اس سے بہت زیادہ خسار ہوا ہے، شاید اس کا تدارک کر پانا مشکل ہو۔ یوم جمہوریہ کی شام طنز و مزاح کے شاعر زبیر الحسن غافل کا پٹنہ کے ایک اسپتال میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریبا ۷۷ سال تھی۔وہ طویل عرصے سے گردے کے عارضہ میں مبتلا تھے، چند سال قبل ان کے گردے کا ٹرانس پلانٹ بھی ہوا تھا۔ زبیرالحسن غافل کی وفات سے ادبی حلقے میں خاص طور سے سیمانچل کا ادبی حلقہ بہت سوگوار ہے۔ اسی سلسلے میں ان کی تعزیت میں ایک آن لائن نششت انصاری اطہر حسین کی صدارت میں رکھی گئی۔ جس میں ملک کے مختلف علاقے سے ادیبوں، پروفیسروں اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔  انصاری اطہر حسین نے زبیرالحسن غافل کی پرانی ملاقات کو یاد کرکے کہا کہ ان کی خوش مزاجی اور اخلاق کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ ایسی بھی شخصیت ہے جو بڑے عہدے پر رہنے کے باوجود ملنسار ہوسکتے ہیں۔ واقعی میں ان کی فطرت میں خوش اخلاقی تھی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے ان کے مزاج پر یقین کرنے میں پختگی آگئی۔ ان پر ہم نے اپنے اخبار میں کئی مضامین بھی شائع کیے ہیں۔ زبیر الحسن غافل اپنی نمایا کامیابی کی وجہ سے جج کے معزز عہدے پر فائز رہے۔ اور اردو زبان کے ماہر ادیب و صاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ جج کے عہدہ پر فائز ہونے اور ادبی مشغولیت کے علاوہ آپ کی زندگی کا روشن ترین باب زندگی کے مختلف شعبہ میں آپ کی گرانقدر سماجی خدمات ہیں۔ ان کی شخصیت کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جج کے عہدے پر فائز رہ کر انصاف کے دامن کو کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ آپ ہمیشہ اپنے اہل خانہ کی مجلس میں کہا کرتے تھے کہ جب بھی میں فیصلے کی تحریر لکھا کرتا ہوں تو بار بار میرا ہاتھ کانپ جاتا ہے کہ کہیں میں کسی کے ساتھ نا انصافی تو نہیں کر رہا ہوں، میں اپنے فیصلے کو بار بار پڑھتا ہوں اور جب متمئن ہوجاتا ہوں تب فیصلے لکھتا ہوں۔ اسی طرح ان کی شاعری کے مجموعے کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ تفریح کے لیے شاعری نہیں کرتے ہیں بلکہ سماج کے جس پہلو کو وہ شاعری میں ڈھالتے ہیں اس سے جب متمئن ہوجاتے ہیں تبھی اسے عام کرتے ہیں۔ وہ جج کے عہدے پر رہتے ہوئے بھی زبان و ادب سے محبت رکھتے تھے۔ وہ اچھے شاعر بھی تھے اور بے باک قلم کار بھی۔ اسلم حسن (آیئ آر ایس) جو ان کے صاحب زادے ہیں ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے عہدے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ زبیر الحسن غافل کتنے علم دوست تھے۔ انہوں نے تعلیم کی طرف بہت زور دیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ معاشرے کے لو گ خاص طور سے مسلمان اعلی عہدے پر فائز ہوں تاکہ ملکی کی تعمیر میں مسلمان نمایاں کردار ادا کریں۔محمد سلیم علیگ جو ادب سلسلہ کے ایڈیٹر ہیں انہوں بھی زبیر الحسن غافل کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ادب سلسلہ میں ان پر ایک انٹر ویو شائع کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ غافل کی شاعری کو لوگوں کو پڑھنا چاہیے اور انہوں شاعری میں جس کی طرف اشارہ کیا ہے اس پر غور فکر کی ضرورت ہے۔ وہ معاشرے کے تئیں ہمدرد تھے۔ وہ معاشرے کی اصلاح چاہتے تھے۔بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری اور سابق بیوروکریٹ مشتاق احمد نوری نے ان کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مشفق اور ہمدرد سے محروم ہوگئے۔ ان کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ انہوں نے ایک شعری مجموعہ بھی لکھا ہے جس کی رسم اجرا بہار اردو اکادمی کے ہال میں کیا گیا تھا۔ میری سکریٹری شپ میں انہیں ان کے مجموعی خدمات کی وجہ سے ایوارڈ بھی دیا گیا تھا اور ان کی پذیرائی بھی کی گئی تھی۔ امسال کے بہار اردو ڈائر کٹور یٹ ڈائری میں ان کو شامل کیا گیا تھا۔اکثر و بیشتر ارریہ میں ان کی رہائش گاہ میں ادبی محفل بھی منعقد ہوتی تھی جس میں مجھے بھی شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ مرحوم نے اس حقیر کے اعزاز میں بھی محفل سجائی۔  تنقید نگار حقانی القاسمی نے زبیرالحسن غافل کی وفات پر غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے سیمانچل کا ادبی حلقہ سوگوار ہے۔ سیمانچل میں ادب کو فروغ دینے میں وہ بہت کوشش کرتے تھے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ اجنبی شہر کے نام سے ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے زبان و ادب کو فروغ دینے کے لیے مختلف انجمنوں کی سرپرستی کی بلکہ بزم حسن نام سے ایک انجمن بھی قائم کر رکھا تھا۔ سیمانچل میں نوجوان قلم کاروں کی ہمیشہ ہمت افزائی کی بلکہ انہوں نے سب کی سرپرستی بھی کی۔ وہ نئے قلم کاروں کے لیے استاد کی حیثیت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر واثق الخیر نے کہا کہ زبیر الحسن غافل کی شاعری میں سماج کا درد جھلکتا ہے وہ سماج کا درد رکھتے تھے ان کی شاعری میں جگہ جگہ سماج میں اصلاح کی کوشش ملتی ہے۔ ان کی شاعری میں مزاح کا پہلو زیادہ ہے۔ وہ اپنے لوگوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے۔پروفیسر سمیع الدین خلیق بھاگل پور سے کہتے ہیں کہ زبیرالحسن غافل کا مجموعہ پڑھنے کو ملا پڑھ کر دنگ رہ گیا کہ ایک مصروف آدمی جو جج جیسے عہدے پر ہوتے ہوئے بھی شعر و ادب سے شغف رکھتے تھے۔ ان کی شاعری فنی اعتبار سے پوری طرح اترتی ہے۔ جہاں تک موضوع کا تعلق ہے تو انہوں نے معاشرے کو ہی موضوع بنایا ہے۔ انہوں نے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہر طرح کی برائیوں پر چوٹ کی ہے۔ لیکن شاعری کو مزاحیہ پہلو دے کر قارئین اور سامعین کو شاعری سے دلچسپی پیدا کردی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا مونیٹرنگ سینٹر سے وابستہ اعجاز عالم اور سرفراز عالم، دوردرشن سے وابستہ نعمان قیصر،صلاح الدین اور محبوب الہی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ 


COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: طنز و مزاح کا شاعر زبیر الحسن غافل کی رحلت پر آن لائن تعزیتی اجلاس کا انعقاد
طنز و مزاح کا شاعر زبیر الحسن غافل کی رحلت پر آن لائن تعزیتی اجلاس کا انعقاد
https://1.bp.blogspot.com/-1JyiJ_cX_00/YBbJ2t_IfhI/AAAAAAAAoPA/JJ21Z4_bufsjiYuM1wpIvh5uK_IFRFIFQCLcBGAsYHQ/s320/GAFIL.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-1JyiJ_cX_00/YBbJ2t_IfhI/AAAAAAAAoPA/JJ21Z4_bufsjiYuM1wpIvh5uK_IFRFIFQCLcBGAsYHQ/s72-c/GAFIL.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2021/01/blog-post_130.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/01/blog-post_130.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy