شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر ظفر احمد صدیقی کی یاد میں تعزیتی جلسے کا انعقاد

علی گڑھ، 12/جنوری: شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شمس الرحمن فاروقی اور شعبے کے استاد،معروف محقق ظفر احمد صدیقی کے انتقال پر تعزیتی ج...

علی گڑھ، 12/جنوری: شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شمس الرحمن فاروقی اور شعبے کے استاد،معروف محقق ظفر احمد صدیقی کے انتقال پر تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں ان دونوں شخصیات کی خصوصیات، علمی حصولیابیوں اور انسانی شرافتوں کا تذکرہ کیا گیا۔

صدر جلسہ
پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے دونوں اعیان علم کی وفات پر رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ادب کا بڑا نقصان قرار دیا۔انہوں نے کہا فاروقی صاحب کے انتقال پر ہم کس طرح گفتگو کریں ذہن اور الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح وہ اردو زبان و ادب کے بڑے عالم تھے اسی طرح ان کا تعلق فارسی روایت سے بھی تھا۔ وہ فارسی کے کلاسیکی ادب سے لے کر جدید ادب تک سے واقف تھے۔فارسی میں جدیدادبی و تنقیدی تھیوری پر ان سے گفتگو ہوا کرتی تھی۔ 

صدر شعبہ اردو پروفیسر محمد علی جوہر نے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی کی علمی و ادبی حیثیت مسلم تھی، ابھی چند ماہ قبل وہ اس شعبہ میں تشریف لائے اور غزل کے کلاسیکی تصور پر نہایت بلیغ خطبہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فاروقی صاحب ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ تنقید تو انہوں نے لکھی ہی، اس کے ساتھ تاریخ اور فکشن پر بھی پوری طرح سے مہارت حاصل تھی جس کا سب سے بڑا ثبوت ان کا ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں ہے جس میں تہذیب کی بازیافت کی گئی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نظر اور نظریہ دونو ں کے مالک تھے اور علمیت تو ان کے لفظ لفظ سے چھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مضامین اور کتابیں تو پڑھی جاتی رہیں گی لیکن ضرورت اس بات کی کہ ان بنیادوں پر غور کیا جائے۔ فاروقی صاحب نے نہ صرف ایک نسل کو متاثر کیا بلکہ قوی یقین ہے کہ ان کی کتابیں آئندہ نسلوں کی ذہنوں کی آبیاری کرتی رہیں گی۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی سے متعلق کہا کہ وہ نہایت شریف النفس اور سلیم الطبع انسان تھے۔ ان کا علمی وقار شعبے اور اس کے باہر یکساں تھا،جس طرح وہ اپنے طالب علموں میں محبوب تھے،اسی طرح ان کے قاری بھی ان سے محبت کرتے تھے۔

پروفیسر ظفر احمد صدیقی کے دیرینہ دوست اجمل اصلاحی نے کہا چراغ پہلے بھی بجھتے تھے ستارے پہلے بھی ڈوبا کرتے تھے مگر شمس الرحمن فاروقی اور ظفر احمد صدیقی کا ہمارے درمیان سے جاناہمیں بجھا گیا۔شمس الرحمن فاروقی کی حیثیت تو افسانوی بن چکی تھی مگر ظفر احمد صدیقی سے اب کچھ زیادہ اہم علمی و ادبی شہ پاروں کی امید تھی کیونکہ اب وہ اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوئے تھے۔انہوں نے ظفر صاحب سے اپنے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ندوۃ العلماسے ہم دونوں کا تعلق استوارہوا اور اہم بات یہ کہ اسی دوران لکھنؤ کے ایک پروگرام میں شمس الرحمن فاروقی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اوربنارس ہندو یونیورسٹی میں تدریس سے قبل بنارس میں ایک مدرسے میں تعلیم دی اور ہر سال وہ نئے موضوعات اور نئے فن کا درس دیا کرتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اس سے میں علم تازہ کرتا رہتا ہوں۔

پروفیسر شافع قدوائی نے شمس الرحمن فاروقی کی ناول نگاری سے متعلق گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں چار سو سال کی تہذیبی بازیافت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ فاروقی صاحب نے افسانے میں کلچر کو برتا ہے جس سے تہذیب کو ایک نئی شناخت ملی ہے۔شعر غیر اور نثر کے حوالے انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلا ہی مضمون ان کی علمیت کی دلیل ہے۔ انہوں نے شمس الرحمن فاروقی کی کتابوں کے حوالے سے کہا کہ صرف ان کو دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور یہ لفظ ان کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ظفر صدیقی کے حوالے سے کہا نظم طباطبا ئی کی شرح کی تدوین ان کا ایک وقیع علمی کارنامہ ہے۔، وہ ہم سب کے لیے علمی مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔

پروفیسر قاضی جمال حسین نے کہا کہ پروفیسر ظفر احمد صدیقی حفظ مراتب کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ان کی ایک خوبی ان کے چہرے کی مسکراہٹ اور دوسری ان کا جذبہ ایثار تھا۔ پروفیسر قاضی جمال نے ان کے جذبہ ایثار سے متعلق متعدد واقعات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ظفر احمد صدیقی کی ہی خوبی تھی کہ شمس الرحمن فاروقی کا آخری جلسہ اس شعبے میں ہوا اور غزل کی کلاسیکی تصور سے متعلق عالمانہ گفتگو کی جس سے ہم سب مستفید ہوئے۔وہ اپنے بڑوں کا بہت لحاظ کرتے تھے، ان کو کبھی کسی سے شکایت نہیں رہی۔ جس طرح وہ ادب کا درس دیا کرتے تھے اسی طرح وہ علم حدیث پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ وہ علم رجال اور جرح وتعدیل کے بھی بے بدل عالم تھے۔ انہوں نے کہا کہ نظم طباطبائی کی شرح پر تو ان کا کام غیر معمولی ہے ہی اسی طرح ان کی ایک کتاب شبلی بحیثیت سیرت نگار بھی بہت اہم ہے جس میں انہوں نے علم رجال کا دریا بہا دیا۔ صحت حدیث اور جرح وتعدیل پر ایسی گفتگو ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ پروفیسر قاضی جمال نے کہا کہ ان کا اصل میدان قصیدہ تھا جس کی تعریف مولانا محمد رابع حسنی ندوی اور محمود الہی جیسی شخصیات نے کی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی ان کی ذہانت کی بنا پر ہی عزیز رکھتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ظفر صاحب شاعر بھی تھے مگر وہ عام طور پر شاعری نہیں کرتے تھے۔

شمس الرحمن فاروقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب میں فاروقی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے متن کی قرات کا طریقہ سکھایا اور بتایا کہ معنی کہاں سے پیدا ہورہے ہیں، متن کے بطن سے معنی کی برآمدگی کا درس فاروقی نے دیا۔اسی طرح فاروقی کا دوسرا بڑا کارنامہ مغربی ادب کی قرات ہے، دوسرے افراد نے مغربی ادب کو مرعوبیت سے پڑھا لیکن فاروقی نے ایسے نہیں پڑھا بلکہ بے باکی سے پڑھا اور ان ہی کو در خور اعتنا سمجھا جو ہماری تاریخ، تہذیب اور روایت سے ہم آہنگ ہے، وہی قابل قبول ہے باقی سب بیکار ہے۔یہ ہمت فاروقی کے علاوہ اور کسی میں نہیں تھی۔ 

پروفیسر قاضی افضال حسین نے ظفر احمد صدیقی کی شخصیت اور علمی وسعت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے درس و تدریس کا طریقہ بہت اچھا تھا۔ ظفر صاحب کی لیاقت کا اندازہ اسی وقت ہو گیا تھا جب ان کا مضمون قصیدے سے متعلق شائع ہوا جس میں انہوں نے محمود الہی پر تنقید کی تھی۔آبرو سے متعلق ظفر صدیقی کا کام نہایت وقیع ہے، جس کو جلد شائع ہونا چاہئے اور یہ ذمہ داری ان کے رفقاء کی ہے۔ پروفیسر قاضی افضال حسین نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی جدیدیت کے سب سے بڑے امام تھے جبکہ مابعد جدیدیت کے مخالف تھے، اس کے باوجود انہوں نے مابعد جدیدید سے متعلق مجھ سے جب سوال کیا تو میں نے ان کو ایک مضمون ارسال کیا جس کو انہوں نے شب خون میں شائع بھی کیا۔ان کی علمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ ایک جدیدیت کے علمبردار نے داستان کے مسترد کردہ فن کو دوبارہ زندہ کر دیاجو ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ 

پروفیسر عقیل احمد صدیقی نے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی سے میرا تعلق استاد و شاگرد کا تھا۔میں نے ہمیشہ ان کی تحریروں کو سمجھنے کی کوشش کی۔انہوں نے مجھے نظم پڑھائی، روزانہ ان کے گھر جاکر ان سے نظم پڑھتا تھا، انہوں نے مجھے نظم کی قرات کا طریقہ سکھایا۔ 

اس سے قبل پروفیسر ظفر احمد صدیقی کی بیٹی نائمہ ظفرنے کہا کہ میری دنیا اندھیر ہوگئی ہے، وہ بے ضرر سی شخصیت کے مالک تھے، وہ ہر کام خود ہی کیا کرتے تھے۔سادگی، اخوت و بھائی چارہ ان کا وطیرہ تھا۔وہ اپنے بچوں اور طلبا کو یکساں اہمیت دیتے تھے۔چند دنوں کی بیماری کے بعد ان کاچلا جانا ہمیں بہت دکھ دے گیا۔ظفر صاحب کا شمس الرحمن فاروقی سے بہت گہرا تعلق تھا، وہ دونوں ہمیشہ علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔آخری وقت تک وہ فاروقی صاحب کے بارے میں سوال کرتے رہے۔مگر ان کو فاروقی صاحب کے انتقال سے متعلق نہیں بتایا گیا کہ وہ یہ صدمہ نہیں سہہ سکیں گے مگر خدا کی قدرت دیکھئے کہ چار دن بعد وہ بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

شمس الرحمان فاروقی سے متعلق تعزیتی قرارداد پروفیسرسید سراج الدین اجملی جبکہ پروفیسر ظفر احمد صدیقی سے متعلق قرار داد ڈاکٹر خالد سیف اللہ نے پیش کی۔ پروگرام میں اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں سمیت غیر تدریسی عملہ بھی شریک ہوا۔

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر ظفر احمد صدیقی کی یاد میں تعزیتی جلسے کا انعقاد
شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر ظفر احمد صدیقی کی یاد میں تعزیتی جلسے کا انعقاد
https://1.bp.blogspot.com/-elCW9f46SYw/X_2MBgeRynI/AAAAAAAAneM/6sz1O746RXwTJRB1gM6fZuFel_rc79UVgCLcBGAsYHQ/s320/Prof%2BM%2BA%2BJohar%2Baddressing%2Bthe%2Bcondolence%2Bmeeting.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-elCW9f46SYw/X_2MBgeRynI/AAAAAAAAneM/6sz1O746RXwTJRB1gM6fZuFel_rc79UVgCLcBGAsYHQ/s72-c/Prof%2BM%2BA%2BJohar%2Baddressing%2Bthe%2Bcondolence%2Bmeeting.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2021/01/blog-post_254.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/01/blog-post_254.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy