کاش راہل گاندھی کو معلوم ہوتا ان کی غداری بھی

کانگریس قائدراہل گاندھی کا ذہنی دیوالیہ پن اب افسوس کی بات ہے، وہ لسانی رسمیں بھی نہیں سمجھتے، وہ کسی کو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں یا کوئی کمتر ا...

کانگریس قائدراہل گاندھی کا ذہنی دیوالیہ پن اب افسوس کی بات ہے، وہ لسانی رسمیں بھی نہیں سمجھتے، وہ کسی کو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں یا کوئی کمتر الزام لگا سکتے ہیں، وہ بے شرمی کے ساتھ ملک کے ۵۳۱ کروڈ عوام کے وزیر اعظم کو غدار اور بزدل قرار دے رہے ہیں، ایسے ناخواندہ افراد بھی اپنے کسی دشمن پر الزام نہیں لگاتے ہیں، راہل گاندھی کا ہندی علم متوسط طبقے سے کم معلوم ہوتاہے کیونکہ یہاں تک کہ متوسط طبقے کے بچے بھی جانتے ہیں کہ کون غدار ہے اور بزدل سے کیا مراد ہے، بہتر ہوگا کہ انہوں نے تاریخ کی کچھ کتابیں پڈھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس وزیر اعظم قوم کے ساتھ غداری کی اور کس نے ان سے بزدلی کا سلوک کیا، راہل گاندھی کو معلوم ہونا چاہئے کہ آذادی کے فورا بعد جب ملک کے ساتھ پہلا غداری ہوئی جب کشمیر کے راجا ہری سنگھ نے کشمیر کو ہندوستان میں مکمل انضمام کے لئے تجویز کیا، راہل نانا جواہر لال نہرو نے غیر ضروری حالات میں رکھتے ہوئے انکار کر دیا، یہ تمام کام ایک شخص شیخ عبداللہ اور اُس کے اہل خانہ کو مطمئن کرنے کے لئے کیا گیاتھا، قبائل کے نام پر آدھا کشمیر پر پاک فوج کے قبضے ہونے دیا گیا، یہ ملک کے ساتھ پہلی بڈی غداری تھی، 

راہل گاندھی کی اطلاع کے لئے ملک کے ساتھ دوسری غداری اور بزدلانہ سلوک اس وقت ہوا جب چین نے تبت کو ذبرستی قبضہ کیا اور ہم تبت کی حفاظت کی بجائے ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے لگاتے رہے، تیسری غداری اُس وقت ہوئی جب  ۲۶۹۱ میں نہرو جی جے بزدلانہ سلوک نے ہندوستانی فوج کو ٹھیک طرح سے لڈنے کی اجاذت نہیں دی اور اکسچین سمیت وپری سرذمین کو چین نے قبضہ میں جانے دیا گیا جوآج بھی چین کے قبضہ میں ہے، بھارت کی چین کی پالیسی پر حکومت پر لعنت بھیجنے والے راہل گاندھی کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے چین کو اقوام متحد ہ کی سلامتی کونسل کا رکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، نہرو کی چین کی محبت عام ہیں، انہوں نے (جواہر لال نہرو) نے سوویت یونین کی پیش کش کو ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کانسل کے چھٹے مستقل رکن کے طور پر شامل کرنے کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین کو ہندوستان کی جگہ لینا چاہئے (ایس گوپال منتخبہ کام برائے نہرو جلد ۱۱ صفحہ ۸۴۲) گویا پورا ہندوستان نہرو خاندان کی ملکیت ہے، 

صرف تھرور کو پڈھ لیا ہوتا

کاش راہل گاندھی کو معلوم ہوتا کہ ہندوستان کو صرف ۳۵۹۱ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنانے کی پیش کش کی گئی تھی، اس پیش کش کو پنڈت نہرو نے مسترد کر دیا تھا، یہ معلومات سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے باضابطہ طور پر اُس وقت دی جب وہ اقوام متحدہ کے انڈرسکریٹری جنرل تھے، گزشتہ صدی کے پانچویں دہائی میں بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کی امیریکہ اور سوویت یونین نے مختلف اوقات میں پیش کش کی تھی، تب یہ دونوں ممالک دیناں کے طاقت ور ترین ممالک تھے، ان کے پاس سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی حیثیت سے دوسرے ملک کو رکھنے کا اختیار تھا، لیکن نہرونے دونوں ممالک کی پیش کش کو مسترد کر دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کو شامل کرنے کی وکالت کی،اس سے بڈی غداری کی مثال نہیں ملے گی،تھرور نے اپنی کتاب نہرو دی ایجادات آف ہندوستان میں یہ دعوی کیا ہے کہ ہندوستان ستانی سفارتکار جنہوں نے اس دور کی وزارت خارجہ کی فائلوں کو دیکھاہے،وہ اتفاق کریں گے کہ نہرو نے اقوام متحدہ کے مستقل رکن بننے کی پیش کش کر ٹھکرا دیا، نہرو نے کہا کہ چین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی جگہ لینا چاہئے، تب تک تائیوان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ممبر تھا، نہرو کی طرف سے امیریکی پیش کش کو مسترد کرنے سے قوم کے ساتھ غداری کی کوئی اورمثال نہیں ہو سکتی ہے،جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک کے تزویراتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی شخصیت کو چمکانے میں مصروف تھے، 

نہرو کی چین سے محبت 

چونکہ راہل گاندھی کی تاریخ کا احساس سفر ہے، اس لئے اُنہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ نہرو جی کی چین سے محبت کی وجہ سے ہی ہیندوستان کو ۲۶۹۱ میں جنگ کا سامنا کر نا پڈا تھا، کیاراہل گاندھی جانتے ہیں کہ چین نے کتنے علاقہ پر قبضہ کیا ہے؟یہ ۴۴۲۷۳ مربع کیلومیٹر ہے، یہ کشمیر وادی کے رقبہ کے برابر ہے، راہل گاندھی جی جان لیجئے کہ یہ نہرو کی ملک سے غداری اُور بزدلی تھی، دراصل آج تک ہمارے ملک کے غدار مستی کرتے ر ہے ہیں ،اب دیکھیں کہ نہرو کے خاص کمیونسٹ فرد کو ۲۶۹۱ کی جنگ کا دشمن سمجھا جاتا ہے، اُسی کرشنا مینن کے نام پر دارالحکومت میں ایک اہم سڈک بھی ہے، ہاں ہم کرشن مینن مارگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں، یہاں اُن کا مجسمہ بھی موجود ہے، وہ ہندوستان کے سابق وزیر دفاع تھے، کیا اس سڈک کانام کرشنا مینن مارگ رکھا جانا چاہئے،نئی نسل یہ سوال کرے گی، جب ہندوستان چین کی افواج آمنے سامنے ہوں گی تو کرشنا مینن اور نہرو کو یاد کیا جائے گا، چین کے ساتھ ۲۶۹۱ کی جنگ کے دوران کرشنا مینن کو بھارتی فوج کی کمزور تیاریوں کا ذمہ دار سمجھاجاتا ہے،اس جنگ میں ہمارے فوجیوں نے سخت سردی میں  کافی کم گرم کپڈوں کے بغیر لڈے تھے،اُن کے پاس دشمن سے لڈنے کے لئے ضروری ہتھیار بھی نہیں تھے، کانگریس نے رہنما جیرام رمیش نے دی مینی لائف آف وی کے کرشبا مینن میں لکھا ہے کہ مینن کے ۷۵۹۱ میں وزیر دفاع بننے پر ملک میں ان کی تقرری کا خیر مقدم کیا گیا تھا، اُمید کی جارہی تھے کہ مینن اور آرمی چیف کو ڈاندیرا سبیہ تھیمیا کی جوڈی دفاعی شعبے کو مستحکم کرے گی، لیکن یہ منین کے متکبرانہ اور ضد وریہ کی وجہ سے نہیں ہو سکا، تاہم ۰۱ اکتوبر ۴۷۹۱ کوکرشنا مینن کی موت کے فورا بعد راہل کی داد ی اندرا گاندھی نے اُن کے نام پر ایک خاص علاقے کی ایک سڈک کووقف کیا، اور اندرا گاندھی نے ملک سے غدار ی کی، ۵۲ جون ۵۷۹۱ کو دارالحکومت کے رام لیلا میدان میں لاکھوں افراد کی ریلی کے بعد اندرا گاندھی نے آدھی رات کو جمہوریت اور آذاد میڈیا کو روک کر ایمرجنسی نافذکردی، ریلی میں شامل جے پرکاش نارائن، آچایہ کرپلانی، وجئے لکشمن پنڈت، اٹل بہاری واجپئی، مورار جی دیسائی وغیرہ کو گرفتار کر لیا گیا، تویہ اندرا گاندھی کی بزدلی تھی۔وہ اپوزیشن کی پرامن مخالفت کو برداشت نہیں کر سکی، اگر داہل گاندھی قابل ہیں تو غداری اور بزدلی کا مطلب کسی ایک پڈھے لکھے فرد سے معلوم کرلیں، اُس کے بعد آپ کو اپنی بیان بازی پر شرم آہی جانی چاہئے، اگر وہ آپ کے اطالوی جینس میں کچھ بچ رہی ہے، اُور غدار ی اُور بزدی کی آخری مثال راہل جی آپ کے والد راجیو گاندھی ہیں جب شری لنکا کی حکومت تمل نژاد کے مشتعل کارکنوکو دبا رہی تھی، تب راجیو گاندھی نے ایل ٹی ٹی ای کے رہنما پربھاکرن اور سیکڈوں ایل ٹی ٹی ای دہشت گردوں کو ہندوستان طلب کیااُور اُنہیں ہندوستانی فوج نے تربیت دی جب کہ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع نے کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے منع کیا تھا، لیکن جب ایل ٹی ٹی ای کے دہشت گردوں نے شری لنکن فوج کو پریشان کر نا شروع کیا تو آپ کے والد راجیو گاندھی نے اپنی بدنامی سے بچنے کے لئے آئی پی کے ایف نام پر منتخب ہندوستانی فوج کے ہزاروں فوجیوں کو ایل ٹی ٹی ای کے لوگوں کو مارنے کے لئے شری لنکا بھیجا، جنہیں اُنہوں نے سرکاری مہمانوں کی حیثیت سے تربیت دی تھی،یہ ان کی بزدلی اُور تمل لوگوں کے ساتھ غداری نہیں تو کیا ہے؟

آر۔کے۔سنہا

(مصنف سینئر ایڈیٹر، کالم نگار اور سابق رکن پارلیمنٹ ہیں)

                                                     
                                                        ترجمہ، اظہر عمری

(سینئر صحافی) 


COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: کاش راہل گاندھی کو معلوم ہوتا ان کی غداری بھی
کاش راہل گاندھی کو معلوم ہوتا ان کی غداری بھی
https://1.bp.blogspot.com/-gf-CwkUN4dg/YC0CAshJZBI/AAAAAAAAo24/SJd7Fxdx3zElTTznRqAqOglpSII3TXmhACLcBGAsYHQ/w640-h404/IMG-20210124-WA0022.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-gf-CwkUN4dg/YC0CAshJZBI/AAAAAAAAo24/SJd7Fxdx3zElTTznRqAqOglpSII3TXmhACLcBGAsYHQ/s72-w640-c-h404/IMG-20210124-WA0022.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2021/02/urdu-editorial-rk-sinha.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/02/urdu-editorial-rk-sinha.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy