پی ایچ ڈی صرف اصلی تحقیق پر ملے

دہلی یونپورسٹی کے حال ہی میں اختتامی۷۹ ویں کانووکشن میں ۰۷۶ ڈاکٹریٹ ڈگریوں سے نوازا گیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام پی ایچ ڈی امتحان میں کا...

دہلی یونپورسٹی کے حال ہی میں اختتامی۷۹ ویں کانووکشن میں ۰۷۶ ڈاکٹریٹ ڈگریوں سے نوازا گیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام پی ایچ ڈی امتحان میں کامیاب اپنے نام کے سامنے ڈاکٹر لکھ سکیں گے، کیا ان تمام کی تحقیق پہلے سے قائم حقائق سے مختلف تھی؟یقینا اعلی تعلیم میں تحقیق کی سطح اہم ہے، اس سے یہ بھی طے ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کو پی ایچ ڈی دینے والے کی سطح کیا ہے،اگر ریاستہائے متحد ہ امریکہ کے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی)، کولوراڈو یونیورسٹی، برطانیہ کی کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی پوری دنیاکے طور پر مشہور مقبول ہے، تو کیا ایسا ہوگا؟ یہ صرف اخبارات میں اشتہار دے کر دنیاکی بہیرین یونیورسٹی نہیں بن سکی ہے، 

اس کا نام اس کے طالب علموں کے ذریعہ کی جانے والی اصل تحقیق کی وجہ سے ہے، بڈا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہر سال دی جاتی ہے جو مستقبل میں کسی نہ کسی طرح معاشرے یاملک کو فائدہ پہنچائے گی؟صرف دہلی یونیورسٹی نے ایک سال میں ۰۷۶ پی ایچ ڈی ڈگری دیں،اگر ہم پی ایچ ڈی کی ڈگری کے بارے میں ملک کی تمام یونیورسٹیوں محققین سے مختلف مضامین میں تحقیق کررہے ہیں تو ان کی تعدا د ہر سال ہزاروں تک پہنچ جائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہردس سال بعد ملک میں لاکھوں نئے پی ایچ ڈی پیدا ہوتے ہیں، کیا ان محققین کی تحقیق بھی اصل ہے؟کیا اُس میں کوئی اس طرح کی قائم کی گئی ہوتی ہے تو نئی ہوتی ہے؟یہ سوال پوچھنا ضروری ہے، کیونکہ،ہر سال مرکزی اور ریاستی حکومتیں پی ایچ ڈی کرنے والے ریسرچ اسکالرز پر بھاری رقم خرچ کرتی ہیں، تحقیق کے دوران اُنہیں صحیح رقم دی جاتی ہے تاکہ ان کے تحقیقی کام میں کسی رکاوٹ یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڈے اور ان کی روزی روٹی بھی جاری رہ سکے، 

یقینی طور پر اعلی معیار کی تحقیق تعلیمی اداروں کی پہچان ہے، ایسے ادارے جو اپنی تحقیق اور اس کے معیار پر توجہ نہیں دیتے ہیں اُنہیں کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا،ملک میں تمل ناڈو، کرناٹک اور اُترپردیش میں سب سے ذیادہ پی ایچ ڈی کی اعلی ڈگری دی جاتی ہیں، اگر وذارت انسانی وسائل کی جانب سے ۸۱۰۲ میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں تامل ناڈو اس سال ۴۴۸۵ محققین کو پی ایچ ڈی سے نوازا گیا، کرناٹک میں پانچ ہزار سے ذیادہ محققین پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب دہے، اُترپردیش میں ۶۹۳۳ محققین نے یہ ڈگری حاصل کی، باقی ریاستیں بھی پی ایچ ڈی دینے میں ذیادہ پیچھے نہیں ہیں، 

ہندوستان میں سال ۸۱۰۲ میں ۳۱۸۰۴ نئے پی ایچ ڈی ہولڈر سامنے آئے، آخر اتنی تحقیق کا فائدہ کس کو مل رہا ہے؟ تحقیق مکمل ہونے اُور ڈگری لینے کے بعد اس تحقیق کا کیا ہوتا ہے؟کیا کوئی پبلشر ان میں سے ذیادہ تر تحقیق کو شائع کرنے کے لئے تیار ہے؟کیا کسی بھی مشہور اخبار کی نگاہ بھی ان تحقیقوں کی طرح ہے؟کیا ہم میں تحقیق کی سطح واقعی سطح کی ہے یا عالمی معیار کی؟یہ بہت اہم سوالات ہیں، ان کے بارے میں سنجیدگی سے بات کرنا بھی ضروری ہے، آپ جو بھی کہیں کوئی بھی حکومت یا یونیورسٹی یہاں تحقیق کے بارے میں ذیادہ سنجیدہ نہیں ہے، 

جب ہندوستان میں اعلی تعلیمی اداروں کا آغاز کیا گیا تو وکوالٹی تحقیق کو ذیادہ اہمیت نہیں دی گئی تھی، مایوسی کن بات یہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی تحقیق پر کسی خاص طریقے سے فوکس نہیں کیا، اگر ہر سال ہزاروں محققین پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں یو پھر اُنہیں عالمی سطح پر عزت کیوں نہیں ملتی؟افسو س، ہمارے آئی آئی ٹی اداروں میں بھی بہت چرچاہوتی ہے، یہاں بھی ہر سال بہت سارے طلباء کو پی ایچ ڈی کروائی جاتی ہے، کیا ہماری کوئی آئی آئی ٹی یا انجینئرنگ کالج  کاطلبہ اپنی اصل تحقیق کے لئے نوبل کی صلاحت رکھتا ہے، اگر آپ کا تعلق علمی دنیاسے ہے، لہذاآپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری تحقیق کا مطلب یہاں ہے، پہلے سے شائع شدہ مواد کی بنیاد پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھیں،آپ کا کام ختم یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں نئے پن کی بہت بڈی کمی ہے، تحقیق کی جاتی ہے تاکہ کسی کو پی ایچ ڈی اور پھر ایک نوکری مل سکے، آپ امریکہ کی مثال لیں، وہاں کی یونیورسٹی میں تحقیق پر ذور دیا جاتا ہے، اسی وجہ سے وہاں محققین مسلسل نویل انعام جیتتے ہیں، آئیے اس بحث کو تھوڈا وسیع کرتے ہیں، ہماری فارما کمپنیاں کو ہی لیں، نئی دوائیں تیار کرنے کے لئے تحقیق میں کتنا خرچ ہوتا ہے؟یہ منافع کے تباسب میں تحقیق پر ایک بہت ہی کم رقم خرچ کرتا ہے، یہی حالت ہمارے شعبے ِصحت کی ہے، عوامی شعبے کے اقدامات کئے گئے ہیں،انڈین ڈرگس اینڈ فارماسیوٹیکل لمیٹڈ (آئی ڈی پی ایل) کی بارے میں بات کریں، اس کی بنیاد ۱۶۹ ۱ میں رکھی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد ذندگی کو بچانے والی ضروری ادویات میں خود کفاکت حاصل کرناتھا، لیکن بدعنوانی کی وجہ سے اس کا نقصان ہوا، یہاں کبھی کوئی قابل ذکر تحقیق نہیں ہوئی، ابدیکھیں کہ ہندوستان میں تحقیق کے لئے سہولیات میں بہت اضافہ ہوا ہے، انٹرنیٹ کی سہولیت تمام محققین کو آسانی سے دستیاب ہے، لیبارٹریوں کی سطح میں بھی بہتری آئی ہے، حکومت محققین کی بھی مدد کرتی ہے، اس کے باوجود ہم مین تحقیق کی سطح اب بھی خراب ہے، توپھر 

  ہم اتنی پی ایچ ڈی ڈگری کیوں تقسیم کر نے جارہے ہیں، ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟میں اس طرح کے بہت سے محققین کو جانتاہوں، جنہوں نے کچھ سالوں تک اپنے یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کا نام کر پیسہ لیا اُور وہاں کے ہاسٹل کا بھر پور استعمال کیا، اس کے بعد انہوں نے تحقیق مکمل کیے بغیر ہی اپنی یونیورسٹی چھوڈ دی یا وہاں رہ ہر سیاست کرناشروع کر دیا، ایک چیز کو سمجھیں کہ ہمیں تحقیق کے معیار پر بہت ذیادہ توجہ دینی ہوگی، محققین جو اپنی تحقیق کو دائیں سے بائیں تک اپنی تحقیق کاپی کرنے اور چسپاں کرنے سے گریز کرتے ہیں وہ اپنی تحقیق کو ختم کردیتے ہیں، اس ذہنیت کو فورا بند کیا جانا چاہئے، تحقیق کے مضمون کو فیصلہ کرنے کا واحد معیار یہ ہونا چاہئے کہ مستقبل میں ملک اور معاشرے کو کیا فائدہ ہوگا؟

محققین کے رہنماوں پر بھی نظر رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے محقق کی کسی طرح مدد کررہے ہیں، ایسی اکثرشکایات آتی رہتی ہیں کہ کچھ رہنمااپنے محققین کو ہرساں کرتے رہتے ہیں ان تمام نکات کو بھی نوٹ کرنا چاہئے، 

آر کے سنہا

(مصنف سینئر ایڈیٹر، کالم نگار اور سابق رکن پارلیمنٹ ہیں)

ترجمہ 
 

اظہر عمری 

(سینئر صحافی) 


COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: پی ایچ ڈی صرف اصلی تحقیق پر ملے
پی ایچ ڈی صرف اصلی تحقیق پر ملے
https://1.bp.blogspot.com/-FZrHDgxAnMc/YB_LcPi-ahI/AAAAAAAAoc8/MaMYUCQyz30cJ__PgTvHcjLie4m28AU6wCPcBGAYYCw/s320/IMG-20210124-WA0022.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-FZrHDgxAnMc/YB_LcPi-ahI/AAAAAAAAoc8/MaMYUCQyz30cJ__PgTvHcjLie4m28AU6wCPcBGAYYCw/s72-c/IMG-20210124-WA0022.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2021/03/urdu-editorial-rk-sinha.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/03/urdu-editorial-rk-sinha.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy