امیر المومنین سیدنا علی مرتضی ؑ : کردار عمل اور پیغام

انسانیت کی تاریخ میں غیر نبی کوئی دوسری ایسی شخصیت نظر نہیں آتی جس کی ذات اور صفات کے اتنے پہلو ہوں اور سب کے سب روشن باب ہوں مثالی ہوں  اما...


انسانیت کی تاریخ میں غیر نبی کوئی دوسری ایسی شخصیت نظر نہیں آتی جس کی ذات اور صفات کے اتنے پہلو ہوں اور سب کے سب روشن باب ہوں مثالی ہوں 
امام المتقین یعسوب الدین حضرت امام علی کرم اللہ وجہ کریم ایک شعر میں فرماتے ہیں 
" وسبطا احمد ولدای منھا 
فمن منکم لہ سھم کسھمی"
ترجمہ (اور جناب احمد کے نواسے میرے ہی بیٹے ہیں جو فاطمہ سے پیدا ہیں تم میں سے کون ہے جو میری طرح ہو )
ان کا بچپن بچوں کے لئے مثال ماں باب کی فرماں برداری اپنے استاد حضرت محمد ﷺ کی پیروی ان کی جوانی جو جواں مردی بہادری جوش ایمانی محنت خدمت عبادت ریاضت فرماں برداری اور جانثاری انقلاب حق کے لئے سرگرمیاں ،بزرگی عزم مصمم استقامت حوصلہ حکمت عملی خوف الہی اور چھوٹوں پہ شفقت غریبوں اور یتیموں پر رحمت امت کے ہر فرد کی فکر وغیرہ گویا زندگئیِ سیدنا علی کا ہر ہر لمحہ ہمیں پیغام عمل دے رہا ہے یہ روشنی ہماری ذات زندگی ہی نہیں معاشرتی زندگی سیاسی زندگی دینی و دنیاوی زندگی ہر کردار ہر پہلو کے لئے جامع مکمل معتبر مقدس لائے عمل ہے ہر تہذیب ہر علاقہ کے انسان کے لئے 
ولادت کعبہ کے اندر عام الفیل کے واقعہ کے تیس سال بعد ۱۳ رجب جمعہ کے روز ہجرت سے ۲۳ قبل بمطابق 17 مارچ 599ء
مکہ مکرمہ تہامہ، شبہ جزيرہ عرب میں ہوئی اس وقت حضور محمد ﷺ کی عمر شریف ۳۰ سال تھی 
امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے ۔ یہ خاندان حرم کعبہ کی خدمات ، سقایہ زمزم کے انتظامات کی نگرانی اور حجاج کرام کے ساتھ تعاون و امداد کے لحاظ میں مکہ کا ممتاز خاندان تھا ۔ علاوہ ازیں بنی ہاشم کو سب سے بڑا شرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے نصیب ہوا وہ نبی آخرالزمان ، سرور عالم کی بعثت ہے جو دوسرے تمام اعزازات بلند تر ہے ۔ حضرت علیؓ کے والد ابو طالب اور والدہ فاطمہ دونوں ہاشمی تھے۔ اس طرح حضرت علی نجیب الطرفین ہاشمی پیدا ہوئے ۔فاطمہ ؓمشرف بہ اسلام ہوئیں اور ہجرت مدینہ کا شرف بھی حاصل کیا ۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔ حضورنبی پاکنے خود ان کے کفن دفن کے انتظامات فرمائے تھے اور اپنا قمیص مبارک ان کے کفن میں شامل فرمایا اور قبر کے تیار ہونے پر پہلے خود اس میں داخل ہوئے اور اسے متبرک فرمایا ۔ حضور نبی پاک نے مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ ابوطالب کے بعد میری نگہداشت اور ضروریات پورا کرنے میں ان کی بہت بڑی خدمات ہیں اور میں نے ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ ان پر قبر کے معاملات آسان ہوں ً۔
جانثاری : حضرت علی کا عشق رسول
صحابہ میں کوئی بھی حضور کے ساتھ اتنا نہیں رہا بچپن سے شادی تک ایک ساتھ رہے نبی اکرم ﷺ نے آپ کی ہی گود میں وصال فرمایا سفر میں عبادت میں خلوت ہو یا جلوت ہمیشہ ساتھ رہتے جنگ احد کے موقعہ پر جب کافروں نے خبر اڑائی کے آپ شہید ہوگے ہیں تو انتہائی اصطرابی کیفیت میں آپ تنہا سینکڑوں کے لشکر میں کود گئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس پہنچ اس دن آپ کا لقب ہوا "صف شکن" " ناد علیا" اسی موقعہ

پر حضرت جبرائلؑ لے کر آئے سوال کیا گیا آپ کو خیال نہ آیا کہ اتنے بڑے لشکر میں تنہا جا رہے ہیں کہا جب حضور ہی نہ ہونگے تو میں اس زندگی کا کیا کرونگا کسے طرح ہجرت مدینہ منور کے وقت حضرت محمد مصطفی ﷺ نے حضرت مولا علی کو آمین بنایا کچھ ضروری امور کی حفاظت اور بچوں عورتوں کی کفالت ان کے سپرد فرمائی اپنے بستر پر سیدنا مولا علی کو سونے کا حکم فرمایا حضرت علی ؑ نے عرض کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ رہے ہیں حضور نے فرما تم میرے آمین ہو میرے بھائی ہو ۔ وہ رات اندیشہ اور شدد کی رات تھی لیکن حضرت علی فرما تے ہیں مجھے اس رات سب سے اچھی نیند آئی پوچھا کیوں تو فرمایا کیوں کہ میرے آقا نے فرما دیا تھا کہ آمانتیں لے کہ آجانہ گویا میرے آنے کا حضور کو یقین تھا تو مجھے کیسے کچھ ہو سکتا تھا مدینہ شریف میں حضور کو بھی آپ کی آمد کا بے صبری سے انتظار تھا جب بخیر و آفیت مدینہ میں حصرت علی وارد ہوئے اس وقت حضور محمد مصطفے بے حد خوش ہوئے گلے لگایا کفار مکعہ کو جس یہ خبر ہوئی رات بستر پر حضرت محمد مصطفی ﷺ نہیں تھے حضرت علی مرتضیؑ تھے تو حیرت زدہ ہوئے ابو صفیان نے کہا کہ علی ہی ہو سکتے ہیں جو اس قدر جانثاری کا مظاہرہ کریں 
حضرت سیدنا علی کا علم و حکمت 
آنحضرت نبی کریم ﷺ کا مشہور ارشاد ہے میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں ایک اور روایت میں فر مایا میں حکمت کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں 
حضرت علی کا علمی مقام بہت بلند تھا شہادت کے بعد امام حسن ؑ نے جو پہلی خطبہ دیا اس میں فرما یا آج وہ شخض دنیا سے تشریف لے گئے جو لوگوں سب سے زیادہ علم والے تھے
ام المومنین سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
عَلیٌ اَعْلَمُ النَّاسٍ بِالسُّنَّةِ.
’’حضرت علی علیہ السلام تمام لوگوں سے بڑھ کر سنت کا علم رکھنے والے ہیں۔‘‘
(تاریخ مدینه دمشق، ج: 42، ص: 408)
یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو وہی قرآن کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سب سے بڑے عالم کی شناخت یوں بیان فرمائی ہے:
اِنَّهٗ سَیَاْتِی نَاسٌ یُجَادِلُونَکُمْ بِشُبْهَاتَ الْقُرآنِ فَخُذُوْهُم بِالسُّنَنِ فَاِنَّ اَصْحَابَ السُّنَنِ اَعْلَمُ بِکِتَابِ اللّٰه.
’’عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو تمہارے ساتھ متشابہاتِ قرآن میں بحث کریں گے، تم ان کا مواخذہ احادیث سے کرنا، بے شک اصحابِ حدیث سب سے بڑھ کر قرآن کریم کے عالم ہیں۔‘‘
(سنن الدارمی، ج:1، ص:37، رقم: 19)
عبدالمالک بن ابی سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
اَکَانَ فِی اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم اَحْدٌ اَعْلَمْ مِنْ عَلِیٍ؟ قَالَ لَا وَاللّٰهِ مَا اَعْلَمُهٗ.
’’کیا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضوان للہ علیہم اجمعین میں سیدنا علی علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی عالم تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، خدا کی قسم میں ایسے شخص کو نہیں جانتا۔‘‘
(المصنف لابن ابی شیبة، ج: 17، ص: 123، رقم: 32772)
یہی وجہ ہے کہ مولیٰ علی علیہ السلام کے سوا کسی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ’’ا س سے جو چاہو پوچھو وہ قرآن سے جواب دے گا‘‘ ایسا دعویٰ صرف انہوں نے ہی کیا۔ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’سیدنا علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: لوگو تم مجھ سے سوال کرو! بخدا تم قیامت تک جس چیز کے متعلق بھی سوال کرو گے میں تمہیں بتائوں گا اور تم مجھ سے قرآن مجید کی بابت سوال کرو، بخدا قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت نہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں اتری یا دن میں، میدانوں میں نازل ہوئی یا پہاڑوں میں؟‘‘
(تاریخ دمشق، ج: 42، ص: 397-398)
حضرت سعید بن مسیب فرما تے ہیں حضرت علی کے علاوہ کوئی شخص نہیں تھا جو " سلونی " کہہ سکتا ہو کہ مجھ سے پوچھو ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرما تے ہیں علم کے دس حصے ہیں اور ان میں سے نو حصے حضرت علی کو دئیے گئے ہیں اور وہ دسویں حصہ میں بھی لوگوں کے ساتھ شریک ہیں حضرت علی ؑ سے کوئی بات ثابت ہوجاتی ہے تو ہم اسے چھوڑ کر دوسری بات کو اختیار نہیں کرتے ہیں بڑے بڑے صحابہ کرام کا مشکل مسائل میں حضرت علی کی طرف رجوع معروف و مشہور ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ فرمائے تھے اے علی میں حلاک ہوجاتا آگر آپ نہ ہوتے (معنی اگر مشکل مسائل میں آپ ہدایت نہ فرماتے تو میرا ایمان و اسلام خطرہ میں پڑ جاتا )
سید الطائفہ شیِخ جنید بغدادی ؓ فرما یا کرتے حضرت سیدنا مولا علی کے دور میں جو فتنہ سرزد ہوئے آپ کے عہد کا زیادہ تر حصہ ان کو دبانے کی جد و جہد میں گزرا اگر پرسکون امن و آمان کا دور ہوتا تو وہ ہمیں وہ کچھ علم دے جاتے جس کی برداشت ہمارے سینہ نہیں رکھ سکتے۔ 
عربی زبان کے قواعد آپؑ  نے  جب لوگوں  کو عربی بول چال میں غلطیاں کرتے پایا تو اصلاح کے لئے بنیادی قواعد وضوابط مرتب کئے اورحضرت ابو الاسود دُؤلی کو  کلمہ کی تینوں قسموں”اسم، فعل، حرف“ کی تعریفیں لکھ کردیے اور اِس میں اضافہ کرنے کا فرمایا  پھر اُن کے اضافہ جات کی اصلاح بھی فرمائی۔(تاریخ الخلفاء، ص143) 
خود سوچئے کہ جس علم کو حاصل کئے بغیر کوئی انسان (خواہ وہ عربی ہو یا عجمی) عالم نہیں بن سکتا تو پھر جو شخص اس علم کا موجد اور موسس ہو وہ باب العلم نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ افسوس کا مقام ہے کہ لوگ علمِ صَرف اور نحو کو تو تمام علوم کا ماں باپ تسلیم کرتے ہیں لیکن جو ہستی ان علوم کی واضع اور صانع ہے، اسے تمام علوم کا دروازہ تسلیم نہیں کرتے۔

عامۃ الناس کو جانے دیجئے! کم از کم جو شخص عربی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خود کو عالم کہلاتا ہے اسے تو حدیث انا مدینۃ العلم وعلی بابھا کا انکار نہیں کرنا چاہئے! کیونکہ اس کے اندر عربی جاننے کی اہلیت صرف اور صرف اسی عربی گرائمر کی بدولت پیدا ہوئی جس کے موجد سیدنا علی علیہ السلام ہیں۔
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ علیہ السلام کی اِس شانِ علم کو جاننے کے باوجود نہ جانے کیوں بدنصیب لوگ شانِ مرتضوی کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
الغرض علم قرآن حدیث تفسیر قرائت فقہ تصوف حساب نحو وغیرہ علوم کے بانیوں کے استاد اعظم ہیں (حضرت علی کی زندگی اسلامی تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس کی ضرورت ہمیں ہر عہداورہرلمحہ ہے۔ان کی پاکبازی،عدل وانصاف، جودوسخا، حلم وبردباری اورشجاعت وبہادری کو ہم کیسے بھلاسکتے ہیں۔ان کی بزرگی ،قیادت اورشجاعت نے توبہتے ہوئے دھاروں کارخ موڑ دیا جن سے آج بھی ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے۔ حضرت علیؓ کی شخصیت کا یہ پہلو بھی ناقابلِ فراموش ہے کہ وہ مولودِ کعبہ بھی ہیں اور ان کی شہادت بھی کوفہ شہر میں خدا کے گھر میں ہوئی۔
شہادت امیر المومنین مولا علی ابن ابو طالب ؑ : 
نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی کو شہادت کی خبر دے دی تھی اور بہت سی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی ؑ کو اپنی شہادت کا سال مہینے اور دن کی تعین کے ساتھ علم تھا ۔ابن ملجم نے زہر آلود تلوار سے آپ کی پیشانی پر حملہ کیا اور اسے دماغ تک پہنچا دیا یہ جمعہ کی رات تھی جب آپ فجر کی نماز کے لئے نکلے تو راستے میں کچھ بطخیں آپ کے سامنے آگئیں ،لوگوں نے انہیں ہٹایا تو آپ نے فرما یا انہیں چھوڑ دو یہ نوحہ کر رہی ہیں جب ابن ملجم خارجی حمیری نے آپ پر حملہ کیا تو آپ نے فرما یا ، "رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا" 
آپ کی وفات کوفہ میں ۲۱ رمضان المبارک ۴۰ ھجری کو ہوئی ۔حضرت حسن حسین علیہ اور عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا تین کپڑوں میں کفن دیا گیا اس میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا سحر کے وقت دفن کیا گیا اور حضرت امام حسن ؑ نے نماز پڑھائی حضرت مولا علی کے پاس رسول اللہ ﷺ کا بچا ہوا حنوط تھا وصیت فرمائی تھی کہ وہ حنوط انہیں لگایا جائے ۔ وفات کے وقت ان کی عمر شریف صحیح قول کے مطابق 63 سال تھی وصیت فرمائے کے بعد سوائے "لا الہ آلا اللہ" کوئی بات نہیں کی مزار مبارک نجف اشرف میں ہے آپ نے حسنین کریمین کو وصیت فرمائی تھی کے مجھے مقام غریین لے جانا وہاں ایک سفید چٹان نظر آئےگی جو روشنی سے چمک رہی ہوگی وہیں وہیں ایک قبر خود کر میری تدفین کر دینا ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اپنے بیٹے اسماعیل سے فر مایا جب کہ وہ مقام غیر میں تھے "یہ تمہارے جد امجد کی قبر ہے " فصل الخطاب صفحہ ۴۔۵ " تالیف خواجہ پارسا نقشبندیؒ 
حضرت علیؓ کی ولادت، سیادت، قیادت اور شہادت سب کچھ اسلام اورپیغمبر اسلام کے لیے تھی اور ان کی پیروی کرکے ہی ہم اپنے لیے دنیا اور آخرت میں عزت اور نجات دونوں کا سامان کرسکتے ہیں۔
حضرت سید محمد علی شاہ قادری نیازی علامہ میکش اکبرآبادی ؒ فرما تے ہیں 
علی کا علم ہے حزب و سرور و وجد و حضور 
علی علم کا نہیں بحث شیعی و حنفی
آج امت پر جو ظلم و ستم ڈائے جا رہے ہیں جن مشکلات کا سامنا ہے حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ نے اپنی زندگی میں برداشت کئے ان کے سامنے جبل استقامت کی طرح نہ صرف کھڑے رہے بلکہ ایک مکمل قانون دسطور زندگی اور ایسے حالات سے نبٹنے کا طریقہ کار بھی بتا دیا ہے ضرورت ہے تو سیرت نبی کردار حیدری کی کے آئینہ میں ایمان استقامت اور حوصلہ کی کا قائم رکھنے کی ۔ 
سید فیض علی شاہ قادری نیازی 
آستانہ حضرت میکش 
خانقاہ قادریہ نیازیہ میوہ کٹرہ آگرہ 
درگاہ حضرت سید امجد علی شاہ قادری ؓ 
(پنجہ مدرسہ آگرہ )

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: امیر المومنین سیدنا علی مرتضی ؑ : کردار عمل اور پیغام
امیر المومنین سیدنا علی مرتضی ؑ : کردار عمل اور پیغام
https://1.bp.blogspot.com/-6PmLPqCq8co/YJDAeukc9RI/AAAAAAAArQY/VYbz9nyX4UAf2WAh0vTqjs83eEy0iURLgCLcBGAsYHQ/s320/Imam_Ali_Mosque_by_tasnimnews.com09.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-6PmLPqCq8co/YJDAeukc9RI/AAAAAAAArQY/VYbz9nyX4UAf2WAh0vTqjs83eEy0iURLgCLcBGAsYHQ/s72-c/Imam_Ali_Mosque_by_tasnimnews.com09.jpg
TIMES OF MUSLIM
http://www.timesofmuslim.com/2021/05/blog-post_4.html
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/05/blog-post_4.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy