امیر المومنین امام حسن مجتبیؑ اور قرآن

سورہ کوثر کی پہلی تفسیر امام حسن مجتبی  اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ...


سورہ کوثر کی پہلی تفسیر امام حسن مجتبی 
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳)
اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا ہے یعنی بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں توتم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کروبے شک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے
 کوثر کی تفسیر میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ،ان سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اے محبوب!بیشک ہم نے تمہیں  بے شمار خوبیاں  عطا فرمائیں  اور کثیر فضائل عنایت کرکے تمہیں  تمام مخلوق پر افضل کیا،آپ کو حسنِ ظاہر بھی دیا حسنِ باطن بھی عطا کیا، نسب ِعالی بھی، نبوت بھی، کتاب بھی، حکمت بھی، علم بھی،شفاعت بھی، حوضِ کوثر بھی، مقامِ محمود بھی،امت کی کثرت بھی، دین کے دشمنوں  پر غلبہ بھی، فتوحات کی کثرت بھی اور بے شمار نعمتیں  اور فضیلتیں  عطا کیں جن کی انتہاء نہیں ۔( خازن، الکوثر، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۱۳-۴۱۴ملتقطاً)
اکثر علماء کے مطابق حضرت فاطمہ زهرا(س) اور آپ کی ذریت کوثر کے مصادیق میں سے ہیں کیونکہ یہ سورہ ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوا ہے جنہوں نے پیغمبر اکرمؐ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیا تھا۔
امام محمود آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں۔
عن ابن عباس رضی الله عنها قال کان اکبر ولد رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم القاسم ثم زينب ثم عبدالله ثم ام کلثوم ثم فاطمه ثم رقيه فمات القاسم عليه السلام وهو اول ميت من ولده عليه السلام بمکة ثم مات عبدالله عليه السلام فقال العاص بن وائل السهمی قد انقطع نسله فهو ابتر فانزل الله تعالیٰ ان شَانِئَكَ اوالابتر.
(روح المعانی ج : 15، جز : 30، ص : 286)
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سب سے بڑے صاحبزادے حضرت قاسم تھے، اس کے بعد سیدہ زینب، اسکے بعد عبداللہ، اسکے بعد ام کلثوم، اسکے بعد حضرت فاطمہ، اسکے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ عنہم۔ جب حضرت قاسم کا وصال ہوگیا تو ملکہ شریف میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحبزادوں میں یہ سب سے پہلے تھے جن کا وصال ہوگیا۔ اسکے بعد حضرت عبداللہ کا وصال ہو گیا تو عاص بن وائل سہمی نے کہا کہ بس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل ختم ہو گی فھو ابتر پس بے نام و نشان ہو گئے۔
تو اس وقت یہ سورت نازل ہوئی اور فرمایا کہ محبوب تیرا دشمن بے نام و نشان ہو گا تمہارا دین اور رسالت اور نبوت قیامت تک قائم رہیں گے۔
محمود آلوسی فرماتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک اس سورت کا شان نزول یہی ہے کہ عاص بن وائل اور دیگر دشمنان رسول کو جواب دینا مقصود تھا۔

فخر الدین رازی کی تفسیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:ہے:

الۡکَوۡثَرَ سے مراد آپؐ کی اولاد ہے۔ کہتے ہیں یہ سورہ چونکہ ان لوگوں کی رد میں نازل ہوا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نرینہ اولاد نہ ہونے پر طعنہ دیتے تھے۔ پس اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی نسل عنایت فرمائے گا جو ہمیشہ باقی رہے۔ دیکھئے! اہل بیت کے کتنے افراد مارے گئے پھر دنیا ان سے پر ہے اور بنی امیہ کا کوئی قابل ذکر باقی نہیں رہا۔ پھر یہ بھی دیکھ لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل میں کتنی بڑی ہستیاں عالم ہیں جیسے الباقر، الصادق، الکاظم اور الرضا علیہم السلام (لفظ علیہم السلام فخر رازی کی عبارت میں نفس زکیہ کے ذکر سے پہلے موجود ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ فخر رازی حفظ مراتب کا لحاظ رکھتے ہوئے ائمہ کو علیہم السلام کے لائق سمجھتے ہیں۔) و النفس الزکیۃ۔ (تفسیر کبیر ۳۲: ۳۱۳)
اس کوثر کا اول باب ہونے کا سب سے پہلا شرف جس کو حاصل ہے وہ سبط اول سخی ذکی کریم اہل بیت امیر المومنین حضرت امام حسن مجتبی علیہ سلام ہیں کیوں نہ ہوں کہ اس گھر میں پیدا ہوئے جہاں قرآن روز و شب نازل ہوتا تھا ان کے نانا کی زبان سے ہی قرآن نازل ہوا آپ کے والد امام المتقین سیدنا علی مرتضی ناطق قرآن ہیں (بولتا قرآن)۔ قرآن کے علم میں بھی کوئی ان کے بابا سے بڑ کر عالم نہ تھا امام المفسرین عبد اللہ ابن عباس ؓ سے کسی نے پوچھا آنحضور ﷺ کے وصال کے وقت آپ کے عمر تو کم تھی تو آپکو قرآن کا اتنا علم کس سے حاصل ہوا اس پر فرما یا حضرت علی ؑ سے میں قرآن کا علم سیکھا ہے آپ فرما تے میں قرآن کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ صبح نازل ہوئی کے شام میں اور کس کے لئے نازل ہوئی صرف سورہ فاتح کی تفسیر کروں تو ستّر آ ۷۰ اینٹوں کی پشت بھر جائے الغرض امام حسن کے استاد آپکے والد بزرگ وار تھے جن کی شان یہ تھی تو اندازہ لگائے کے کیسی تربیت ملی ہوگی ۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی قرآنی سیرت کا ایک مختصر سا نمونہ یہ بھی قابل غور ہے کہ جب کبھی آپ تلاوت فرماتے اور ان آیات تک پہنچتے ،جن میں خطاب ''یا ایھا الذین آمنوا''کے ذریعہ ہوا ہے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے:''لبیک،اللھم لبیک 
قرآن کے محبت 
امام حسن ؑ کے روز و شب قرآن کی تلاوت میں گزرتے شوق اور انہماک سے قرآن پڑھتے خوبصورت انداز میں قرعت کرتے کوئی بھی آپ سے بڑ کر قرآن کو خوش الحان لہجہ میں پڑھنے والا نہ تھا قرآن سے وہ وہ نقاط و مفہوم بیان فرما تے کے بڑے جلیل القدر صحابہ حیرت میں پڑھ جاتے 
ایک قول میں قرآن کی فضیلت پر زور دیتے ہوئے فرما تے 
ہیں قیامت کے دن قرآن کریم اعمال کی قضاوت کرنے والی کتاب ہوگی۔امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:''انّ ھذا القرآن یجیٔ یوم القیامة قائداً وسائقاً یقود قوماً الیٰ الجنّة أحلّوا حلالہ وحرّموا حرامہ وآمنوا بمتشابھہ ویسوق قوماً الیٰ النار ضیّعوا حدودہ واحکامہ واستحلّوا محارمہ''۔''یہ قرآن قیامت کے دن ایک رہبر کی صورت آئے گا،جن لوگوں نے حلال خدا کو حلال اور حرام الٰہی کو حرام جانا اور جو قرآن مجید کے متشابہات پر ایمان لائے انہیں جنت کا راہی بنائے گا اور جن لوگوں نے حدود واحکام خداوندی کو نہیں مانا نیز حرام الٰہی کو حلال جانا انہیں راہی دوزخ کرے گا'
دیلمی لکھتے ہیں 
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:''ما بقی فی الدنیا بقیة غیر ھذا القرآن فاتّخذوہ اماماً یدلّک علیٰ ھداکم و انّ أحقّ الناس بالقرآن من عمل بہ و ان لم یحفظہ و أبعدھم منہ من لم یعمل بہ و ان کان یقرأہ''۔''دنیا میں اس قرآن مجید کے سوا کچھ باقی نہیں بچا ہے،اسے اپنا امام اور مقتدا قرار دو ،تا کہ یہ تمہیں راہی یدایت کرے۔قرآن کریم کے تئیں سزاوار ترین شخص وہ ہے جو اس کے تعلیمات پر عمل کرے ،اگر چہ اس کی آیات کا حافظ نہ بھی ہو اور قرآن کریم سے دور شخص وہ ہے جو قرآنی معارف پر عمل پیرا نہ ہو بھلے ہی وہ قرآن کی تلاوت کرنے والا ہو''۔(ارشاد القلوب،ص٧٩)مذکورہ حدیث میں امام عالی مقام نے قرآن مجید کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دینے کی تاکید فرمائی ہے۔
دوسری جگہاں ارشاد ہے 
من قرأ ثلاث آیات من آخر سورة الحشر اذا أصبح فمات من یومہ ذالک طبع بطابع الشّحداء واِن قرأ اذا أمسی فمات فی لیلتہ بطابع الشّھدائ''۔''جو شخص صبح کے ہنگام سورۂ حشر کی انتہائی تین آیات کی تلاوت کرے اور اسی دن اس دنیا سے رخصت ہو جائے اسے شہداء کا مقام ومرتبہ ملے گا اور اگر رات ہوجائے اور اس کی تلاوت کے بعد مر جائے تو بھی اسے شہیدوں جیسا اجر وثواب نصیب ہوگا
امام حسن علیہ السلام قرآن کریم کی آیت ''انّا کلّ شئیِِ خَلقناہُ بقدرِِ''(سورۂ قمر٤٩)،کی تفسیر کے ضمن میں فرماتے ہیں :''ہم نے ہر چیز کو حتیٰ جہنمیوں کے لئے بھی ان کے اعمال کے مطابق خلق کیا ہے''۔(التوحید،ص٣٨٢،ح٣٠)
رمضان اور امام حسن علیہ السلام 
امام حسن علیہ السلام کی ولادت بھی ماہ نزول قرآن معنی رمضان مبارک میں ہوئی گویا قرآن اور تفسیر القران دونوں کا تعلق رمضان سے ہی ہے اکثر معرخین اور محدثین نے آپ کی ولادت بدھ کے دن ۳ ھجری ۱۵ رمضان لکھی ہے حالانکہ ۵ ۔۳ ۔۲۹ اور ۱۱ کا ذکر بھی آیا ہے لیکن سب سب سے معتبر روایات میں ۱۵ ہی مذکور ہے 

بیان ولادت اور عقیقہ : حضرت زہرا(س)نے  اس مبارک مولود کو ولادت کے ساتویں دن ریشمی کپڑا جو حضرت جبرائیل پیامبر اکرم (ص) کے لئےلائے تھے میں لپیٹا اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں لے کر آئیں۔حضرت نے اس مبارک(پاک) مولود کا نام حسن رکھا۔ اور ایک بکرا آپ کے لئے  عقیقہ کیا 

حسن نام کیوں رکھا گیا: 
جابر بن عبداللہ کہتے ہیں: حضرت امام حسنؑ کی ولادت کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ حضرت زہراؑ نے حضرت علی ؑ کو فرمایا: نئے مولود کا نام رکھیئے۔ حضرت امیرالمؤمنین ؑ نے فرمایا: ان کا نام حضرت رسول خدارکھیں گے اورپھر رسول خدا نے فرمایا کہ میں ہی منتظر ہوں کہ خداوند ان کے  نام کا حکم دے۔
خداوند متعال نے جبرائیل کو وحی کی کہ محمد ﷺ کے پاس ایک بچہ پیدا ہوا ہے ابھی ان کے پاس جاؤ اور انہیں فرزند کی مبارکباد دو اور محمد کو اطلاع دو کہ علی کی نسبت تیرے ساتھ ایسی ہے جیسے ہارون کی موسیٰ سے ہے۔
اپنے نومولود کا نام ہارون کے بچوں پر رکھو۔ اس حکم کے بعد جناب جبرائیل رسول خدا کے پاس پیغام لے کر آئےاور کہا علی کے فرزند کو ہارون کے فرزند جیسا نام رکھو ۔ پیامبر نے پوچھا جناب ہارون کے بچوں کا نام کیا تھا تو جبرائیل نے عرض کی اس کے بچہ کا نام شبرتھا پیامبر نے فرمایا میری زبان عربی ہے تو جبرائیل نے عرض کی اپنے فرزند کا نام حسن رکھو
حضرت امام حسن علیہ السلام کی زندگی: سات سال اور کچھ ماہ حضور ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری  اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تیس سال اور اپنے باپ کے بعد 9 سے 10 سال اکیلے  زندگی گزاری۔ آپ کا قد بڑا اور داڑھی گھنی تھی۔ لوگوں نے آپ کے والد کی شہادت کے بعد جمعہ کے دن 21 رمضان سال 40 ہجری کو آپ کی بیعت کی آپ کے  لشکر کا سپہ سالار  عبیداللہ بن عباس اور ان کے بعد قیس بن سعد بن عبادہ تھا۔
لوگوں نے جب امام (ع) کی  بیعت کی تو اُس وقت آپ کی عمر مبارک 37 سال تھی ابھی آپ کی حکومت کے 6 ماہ اور 3 دن ہی گزرے تھے کہ سال 40 ہجری کو آپ کی معاویہ کے ساتھ صلح کا واقعہ پیش آیا اس کے بعد امام مدینہ چلے گئے اور 10 سال تک وہاں قیام پذیر رہے۔
آپ کی کنیت ابو محمد اور ابوالقاسم ہے۔ مقدس ترین القاب سید، سبط، امین، حجت، برّ، تقی، اثیر، زکی، مجتبیٰ، سبط اول اور زاہد ہے، (1)

امام حسن کا کرم و سخاوت: 

انس بن مالک نقل کرتے ہیں   کہ ایک کنیز نے ایک پھولوں کا دستہ امام علیہ السلام کو ھدیہ پیش کیا تو امام حسن علیہ السلام نے اسے فرمایا: "تجھے خدا کی راہ میں آزاد کیا"
تو راوی کہتا ہے کہ میں نے آنحضرت کو عرض کیا ، کیا آپ نے فقط پھولوں کے ایک گلدستہ کے بدلے اسے آزا د کر دیا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا خداوند متعال نے ہماری اس طرح تربیت کی ہے۔ خداوند قرآن میں سورہ نساء کی آیت نمبر 86 میں فرماتا ہے کہ «وَ إِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها أَوْ رُدُّوها»کہ جب کوئی تمہارے ساتھ اچھائی کرے تو اس کا بڑھ  کر جواب دو یا حداقل اسی طرح جواب دو اس کے بعد فر مایا بہتر یہ ہے کہ اس کو آزاد کردو 
آپ کریم اہل بیت علیہ السلام کے نام سے معروف ہیں چونکہ آپ نے اپنی زندگی میں کئی دفعہ اپنی تمام دولت فقراء میں مساوی طور پر تقسیم کر دی ۔
ابن شھر آشوب نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کیا ہے کہ حضرت امام حسن (ع) پچیس مرتبہ پیدل حج پر گئے اور دو مرتبہ یا ایک روایت کے مطابق تین مرتبہ اپنے مال کو خدا کے ساتھ تقسیم کیا کہ آدھا مال اپنے لئے رکھا اور آدھا مال خدا کی راہ میں فقیروں کو دیا
حسن اخلاق و مروت میں کوئی آپ سے بڑ کر نہ تھا اپنے نانا کی ہی طرح سخی اور حسن خلق والے تھے انکشار اور درگزر میں اس درجہ کے آپ کے غلام ملول ہوتے کے آپ کچھ تو فرما دیں کے اسے تنبیہ ہو مگر اللہ اکبر دنیا نے ایسی برداشت شاید ہی دیکھی ہوگی 
امام حسنؑ کا حلم اور صبر 
حضرت داتا گنج بخش حجویری ؓ نے اور دوسرے کئی مصنفین نے لکھا ہے 
ایک شامی بوڑھے شخص نے جب آپ کو سواری پر سوار دیکھا تو آپ کو گالیاں دینا شروع کر دی لیکن امام حسن نے سکوت ( خاموشی ) اختیار کی جب اس شخص کی گالیاں ختم ہوئی تو حضرت امام حسن نے گشادہ روی کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئے جب کہ آپ مسکرا رہے تھے اس شخص پر سلام کیا اور فرمایا " اے شخص میرے خیال میں تم مسافر ہو اور لگتا ہے کہ کچھ چیز یں تم پر مشتبہ ہو گئی ہیں اگر ہم سے مدد طلب کرتے ہو تو ہم تم سے مشکلات کو برطرف کر سکتے ہیں اور تمہیں کچھ دے سکتے ہیں اور اگر ہم سے کوئی چیز چاہتے ہو تو تمہیں دے سکتے ہیں اور اگر ہم سے راہنمائی چاہتے ہو تو تمہاری راہنمائی کر سکتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو تمہارا سامان اٹھاؤں تو اٹھا لوں گا  اور اگر بھوکے ہو تو تمہارا پیٹ بھر سکتے ہیں اور اگر برہنہ ہو تو تمہیں لباس دیتے ہیں اور اگر نیاز مند ہو تو تمہیں بے نیاز کر دیں گے اور اگر کسی جگہ سے بھگائے گئے ہو تو ہم تمہیں پناہ دینے کے لئے تیار ہیں اور اگر کوئی حاجت رکھتے ہو تو اسے پورا کر سکتے ہیں اور اگر ہماری طرف سفر کیا ہے تو واپس جانے  تک  ہمارے مہمان ہو  اور یہ تمہارے لئے بہتر ہے چونکہ ہمارے پاس مہمان نوازی کے لئے گھر موجود ہے۔ بہت بڑا مال و منزلت تمہارے اختیار میں ہے۔
جب اس شامی مرد نے امام حسن علیہ السلام کی اس محبت آمیز گفتار کو سنا تو رونے شروع کیا اور اس طرح دگرگون ہوا اسی لمحہ یہ کلمات جاری کئے " الشھد انک خلیفۃ اللہ فی ارضہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ "
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہو خداوند متعال آگاہ ہے اس سے کہ اپنی رسالت کو کس میں قرار دے۔
پھر اس کے بعد فرمایا میں سمجھ رہا تھا کہ آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک دشمن ترین مخلوقات میں سے ہو لیکن اب پتہ چلا ہے کہ آپ میرے نزدیک خدا کی محبوب ترین مخلوقات میں سے ہیں  اس کے بعد اس نے اپنا سامان امام علیہ السلام کے گھر منتقل کیا اور جب تک مدینہ میں رہا آپ کا مہمان رہا پھر اس کے بعد شام کی طرف واپس چلا گیا جب کہ خاندان رسالت کی سچی محبت اس کے دل میں تھی اور اس کا معتقد تھا 

شبیہ رسول : 
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسن ؓسے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔حضرت امام حسن ؓ رسول کریمؐ سے چہرے سے سینے تک اور امام حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول ؐکی شبیہہ تھے ۔
امام حسن کی محبت اللہ کے قرب کا بائث 
بخاری مسلم ترمزی نسائی وغرہ کی بہت سی آحدیث میں یہ مفہوم بیان ہوا ہے کہ فرما یا سرکار دو عالمﷺ نے کے جس نے امام حسن و امام حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مچھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا جس نے مچھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا 
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْقَطَّانُ قَال‏ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ بُهْلُولٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبَانٍ عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ الْحَسَنِ‏ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ (ع) قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ص) يَقُولُ‏ أَنَا سَيِّدُ النَّبِيِّينَ وَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ سَيِّدُ الْوَصِيِّينَ وَ الْحَسَنُ‏ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ الْأَئِمَّةُ بَعْدَهُمَا سَادَاتُ الْمُتَّقِينَ وَلِيُّنَا وَلِيُّ اللَّهِ وَ عَدُوُّنَا عَدُوُّ اللَّهِ وَ طَاعَتُنَا طَاعَةُ اللَّهِ وَ مَعْصِيَتُنَا مَعْصِيَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ حَسْبُنَا اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيل‏.
ترجمہ: علی بن محمد بن موسیٰ اپنی اسناد کے ساتھ ابی طفیل اور وہ حضرت امام حسن علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا: میں نے رسول خدا ؐ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں جنت میں رہنے والے پیامبروں کا سردار، علی اوصیا ءکا سردار اور حسن و حسین جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے بعد والے آئمہ نیک و متقی لوگوں کے سردار ہیں ہماری مدد کرنے والا خدا کی مدد کرنے والا ہے اور ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے اور ہماری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ہمارے حق میں معصیت ،  خدا کی معصیت ہے اور ہمارے لئے بس خدا ہی کافی ہے اور وہ کتنا اچھا وکیل ہے ۔

عمر اور سنہ شہادت : 
50 ھجری میں 47 سال میں کچھ مہینے کم عمر میں زہر سے شہید ہوئے 
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رقم طراز ہیں کہ امام حسن ؑ کی شہادت کا سبب آپ کی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس کی جانب سے دیا جانے والا زہر تھا۔جسے لالچ دیا گیا تھا کہ اس کا نکاح یزید بن معاویہ سے کرادیا جائے گا۔(سر الشہادتین )
امام نائب وزیر مصطفے حسن 
خلفۃ اللہ باالیقیں مجتبی حسن 

 سید فیض علی شاہ قادری نیازی 
خانقاہ قادریہ نیازیہ آستانہ حضرت میکش ؓ میوہ کٹرہ ۔آگرہ  

 

COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: امیر المومنین امام حسن مجتبیؑ اور قرآن
امیر المومنین امام حسن مجتبیؑ اور قرآن
https://1.bp.blogspot.com/-rIUF5FJjWGU/YIjkJE91guI/AAAAAAAArHM/dVFtRZYaRK8E3y6MhHpLH-Iqfvf7VgwOQCLcBGAsYHQ/s320/IMG-20210411-WA0010.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-rIUF5FJjWGU/YIjkJE91guI/AAAAAAAArHM/dVFtRZYaRK8E3y6MhHpLH-Iqfvf7VgwOQCLcBGAsYHQ/s72-c/IMG-20210411-WA0010.jpg
TIMES OF MUSLIM
https://www.timesofmuslim.com/2021/04/blog-post_58.html
https://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/04/blog-post_58.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy