ایک عہد ساز استاد: پروفیسرمنظرعباس نقوی

                    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا         ہمارے مشفق استاد پروفیسر منظر عباس نقوی سابق صدر شعبۂ اردو،علی گڑھ مسلم...

                    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 


       ہمارے مشفق استاد پروفیسر منظر عباس نقوی سابق صدر شعبۂ اردو،علی گڑھ مسلم ؤنیورسٹی،علی گڑہ مشکل میں کام آنے والے،بلند اخلاق و کردار کے حامل،لب و لہجہ شائستہ اور خطابت پر کشش۔جنہیں طالب علمی کے زمانے سے ہی تقریری مقابلوں میں حصہ لینے کا شوق تھا۔  بقول منظر صاحب   ”مقابلے میں لاکھ کوئی سر کیوں نہ مارے،انعام ہم ہی کو ملتا تھا    “ 

جب ایسا  طالب علم  اپنے فن کا لوہا اسکول کے زمانے میں ہی منوا چکا ہو اور جب وہ خود استاد بن جائے تو وہ اپنی پہچان تو اوروں سے الگ بنئے گا ہی۔

                 منظر صاحب کی شخصیت کچھ الگ ہی تھی۔سادگی اور خلوص کا  پیکر۔تدریس کا اندازبا لکل جدا۔انکے لکچرس آج بھی دل و دماغ میں تازہ اور محفوظ ہیں۔جب وہ لکچر دیتے توانکے منہ سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ ذہن میں اترتے چلے جاتے تھے۔انکے لکچرس،پروگرام کی نظامت علی گڑھ کے تاریخی کینیڈی ہال میں،ہم نے متعدد بارسنیں۔پڑھانے کا طریقہ،تقریر،گفتگو کا انداز یہ ساری چیزیں طالب علمی کے زمانے سے ہی سر کی ہمیں بیحد متائثر کرتی تھیں۔سچ کہوں تو نظامت کرنے کا سلیقہ ہم نے منظر  صاحب سے ہی سیکھا۔ایک کامیاب استاد وہی ہوتا ہے جس کے شاگرد اسکی صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے اپنے اندر لانے کی کوشش کریں۔اور جب  خوداستاد بنیں تو استاد کی ساری خوبیاں انجے اندر موجود ہوں۔

                                 ہم کچھ شاگرد ایسے تھے جن پر سر کو بڑا اعتماد تھا اور ہمیں یہ اجازت تھی کہ آپ آئیں تو ہمارا چیمبر کھلوالیں اور یہیں بیٹھ کر کام کریں۔میرے علاوہ سر کی دوسری شاگرد ریشماں سہیل تھیں۔ہم دونوں سر کے گھر تار بنگلے ساتھ ہی جاتے تھے۔وہاں جاکر آنٹی سے جو محبت ملتی وہ ایک ماں کی محبت جیسی ہی ہوتی۔

                          ۵۸۹۱ء میں ہمارا رجسٹریشن بی ایڈ کے بعدپی ایچ ڈی میں ہو گیا۔پرفیسر منظر عباس نقوی صاحب ہمارے نگراں ہوئے۔میں حوش قسمت تھی کہ آپکی نگرانی میں ایم فل کا مقالہ لکھا۔ہم بلا تکلف سر کے گھر چلے جاتے تھے۔سر بڑی بیٹی نجم السحر نے ہمارے ساتھ ہی اردو میں ایم اے کیا تھا۔

                         ایک خاص بات جو سر کے اندر تھی وہ یہ کہ ہمیشہ کہتے کہ نوکری کے لئے کوشش کرو۔جہاں مل جائے جاؤ۔علی گڑھ کا نام روشن کرو اور ہم لوگوں کو بلاؤ یہ بات ہمیشہ ہمارے دماغ میں رہتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے سارے سینیرس سے پہلے ۷۸۹۱ء میں اتر پردیش ہائر ایجوکیشن سروس کمیشن،الہ آباد سے ہمارا سیلکشن ہو گیا۔سر بہت خوش تھے۔میں آگرہ آگئی۔بیکنٹھی دیوی گرلس ڈگری کالج میں اردو لکچرر جوائن کر لیا۔

                 ہمارا   ایم فل کا وائے وا ہونا تھا۔اس زمانے میں فون کی سہولت نہیں تھی۔صبح کے دس بجے دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے آواز دی ۔کون؟

دروازہ کھولا  تو حیران رہ گئی۔سامنے ولی محمد بھائی۔بی بی! منظر صاحب نے ہمیں بھیجا ہے۔آپکو ابھی علی گڑھ چلنا ہے۔آپکا وائے وا ہے۔سر اس وقت شعبہ اردو کے چیرمین تھے۔میں ولی محمد بھائی کے ساتھ آگرہ سے علیگڑھ کے لئے چل پڑی۔اس روز ٹریفک کا یہ حال تھا کہ آگرہ سے علی گڑھ کا سفر سات گھنٹے میں طئے کیا۔شعبۂ اردو بند ہو چکا تھا۔وہ نوٹس بھی بیکار ہو گیا جس میں اوپن وائے وا کی اطلاع تھی۔جسے نوٹس بورڈ پر لگا دیا گیا تھا۔ ہم لوگ سیدھے منظر صاحب کے گھر پہنچے جہاں ہمارے ممتحن مرحوم پروفیسر حکم چند نیر صاحب موجود تھے۔۔ہمارا وائے وا ہوا۔آنٹی بولیں کھانا کھاؤ،فکر نہ کرو۔صبح جلدی نکل کر اپنی ڈیوٹی پر وقت سے پہنچ جانا۔ایسا ہی ہوا۔میں آگرہ واپس آگئی اور کلاس کے مررہ وقت پر کالج پہنچ گئی۔

                       ایسے استاد جو اپنے شاگرد کی بھلائی کی سوچتے ہوں،اب کہاں؟ 

                    سر نے ہمیں حوصلہ دیا اور آگے بڑھنے کا راستہ بتایا۔یہ وہی حوصلہ ہے کہ ہم نے طوفان کا مقابلہ کیا اور طوفان بھی ہمارے حوصلے دیکھ کر تھم گیا۔آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ  اس زمانے میں استاد اور شاگرد کا رشتہ کتنا مضبوط اور ہمدردانہ ہوتا تھا۔کیا آج ایسا ہے؟

                    ایک واقعہ میں ضرور بتانا چاہونگی کہ جو ہمارے لئے بہت خاص ہے وہ یہ کہ ۹۲ اپریل ۶۸۹۱ء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کانووکیشن کے مہمان خصوصی اور اردو نواز صدر جمہوریہ  ہندگیانی ذیل سنگھہ صاحب تھے۔انکی تقریر انگریزی میں تھی۔وہ تقریر سر کو اردی میں لکھنی تھی ۔میں موجود تھی سر نے کہا میں بولتا جا رہا ہوں تم اردو میں لکھو۔تقریر اردو میں تیار ہو گئی۔میں اس کانووکیشن کے پنڈال میں بیٹھ کر اپنی بغل کی ساتھی سے کہ رہی تھی کہ اس تقریر کو لکھنے میں سر کے ساتھ میں بھی شامل تھی۔اسی کانوکیشن میں علی سردار جعفری صاحب کو ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا تھا۔اس طرح کے واقعات ہم اپنے شاگردوں کو بتا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔اور ہمارے شاگردوں کے اندر کچھ خاص کرنے کا جزبہ پیدا ہوتا ہے۔

                   پروفیسر منظر عباس نقوی صاحب استاد محترم سے ستمبر ۰۲۰۲ء میں فون پر بات ہوئی تھی۔بہت خوش تھے کہ تم محنت کر رہی ہو۔تم نے تو شروع سے ہی محنت ک کرتی رہی ہو۔میں بہت خوش ہوں۔۔مجھے اوروں سے بھی تمہارے بارے میں بات ہوتی ہے۔ہماری یہ گفتگو سر سے آخری تھی۔یقینا پروفیسر منظر عباس نقوی صاحب ایک عہد ساز استاد تھے۔

                           آہ  ہم اپنے شفیق استاد سے ۵۲ اپریل ۱۲۰۲ ء کو جدا ہوگئے۔پروفیسر منظر عباس نقوی صاحب نے اپنا رخت

 سفر باندھ لیا۔اللہ آنٹی نجم السحر،کرن،زیب السحر،داماد و اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور استاد محترم پروفیسر منظر عباس صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین                                  



                                       شام در شام جلیں گے تیری یادوں کے چراغ 

                                         نسل در نسل  تیر ا نام    رہے  گا  روشن 

            

                                      ڈاکٹر نسرین بیگم (علیگ) 

                                   ایسوسی ایٹ پروفیسر و صدر شعبۂ اردو 

                              بیکنٹھی دیوی گرلس پوسٹ گریجوایٹ کالج، آگرہ

                     

          


COMMENTS

loading...
Name

Agra Article Bareilly Current Affairs DVNA Exclusive Hadees Hindi International Hindi National Hindi News Hindi Uttar Pradesh Home Interview Jalsa Madarsa News muhammad-saw Muslim Story National Politics Ramadan Slider Trending Topic Urdu News Uttar Pradesh Uttrakhand World News
false
ltr
item
TIMES OF MUSLIM: ایک عہد ساز استاد: پروفیسرمنظرعباس نقوی
ایک عہد ساز استاد: پروفیسرمنظرعباس نقوی
https://1.bp.blogspot.com/-k4Q0tgJtUPY/YIlmE1PkuLI/AAAAAAAArIg/NQkkAdQgmZYqgX1TdJOQOJ55p-hguEOTgCLcBGAsYHQ/s320/facebook_1619607052983_6793124340758775740.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-k4Q0tgJtUPY/YIlmE1PkuLI/AAAAAAAArIg/NQkkAdQgmZYqgX1TdJOQOJ55p-hguEOTgCLcBGAsYHQ/s72-c/facebook_1619607052983_6793124340758775740.jpg
TIMES OF MUSLIM
https://www.timesofmuslim.com/2021/04/blog-post_90.html
https://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/
http://www.timesofmuslim.com/2021/04/blog-post_90.html
true
669698634209089970
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS CONTENT IS PREMIUM Please share to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy